ایکسپریس اردو
پاور سیکٹر میں ڈاکے پڑ رہے، منی لانڈرنگ کے 180 ارب ضبط، دسمبر تک مقدمات، چیئرمین نیب
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل رٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے انکشاف کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے رواں سال جنوری سے ستمبر تک 9ہزار 171ارب روپے سے زائدکے اثاثے ریکور کیے،ریلوے کی 6ٹریلین روپے کی بازیاب اراضی نیلام کرلی جائے تو ایم ایل ون کیلیے وسائل پورے ہو جائیں گے، پاور سیکٹر میں ریلوے سے بھی زیادہ ریکوری ہو سکتی ہے۔
جمہوریت کے دعویدار ممالک کا منی لانڈرنگ کے حوالے سے مشکوک کردار ہے،پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعہ پیسہ باہر جانا رک گیاہے،سسٹم نہیں بیٹھا،چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔
سی ڈی اے کا نظام ٹھیک نہیں، اسے تبدیل کیا جائے۔ سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے کہاکہ نیب نے مارچ 2023 سے دسمبر 2025 تک کیش اور اثاثوں کی مد میں چھبیس ٹریلین روپے کی ریکوری کی، صرف جنوری 2026 سے ستمبر 2026 تک 9171.92 ارب روپے کی ریکوری کی، صرف ڈھائی ماہ کی محنت کے بعدریلوے کی اربوں روپے کی زمینیں ایسٹ کی صورت میں ریکور کر لیں،ایم ایل ون جیسا منصوبہ ان زمینوں کی پراپر آکشن سے بغیر کسی بیرونی قرضے کے بن سکتا ہے۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ ریلوے کے جو اثاثے ہم نے واپس کرائے ہیں،جو زمینیں واپس کرائی ہیں وہ چھ ٹریلین روپے سے زیادہ کی ہیں، اگر ان کو ٹھیک مانیٹر کر کے ان کی آکشن کی جائے تو یہ دس ٹریلین سے زیادہ کی رقم ہو جائے گی۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ پاور سیکٹر پر جو ہم اب کام کر رہے ہیں وہ ڈے لائٹ رابری ہے، اگلے سال کے پہلے حصے میں بہت سی چیزیں اوپن ہو جائیں گی، پہلے ہم پاور سیکٹر کودیکھ رہے ہیں، پھر وزارت صنعت و پیداوار کے اداروں کودیکھیں گے،پاور سیکٹر میں ریلوے سے بھی کہیں زیادہ ریکوری کی امید ہے۔
کراچی میں باتھ ہائی لینڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، آرام باغ، سول لائنز، ریلوے کینٹ اسٹیشن پر اربوں کی ریکوری کی،لاہور میں گلبرگ، بیکھے وال، رنگ محل سمیت ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں واگزارکر کے ریلوے کے نام منتقل کی، ہم نے 9 ماہ میں 52 ارب ڈالر کی ریکوری کیش اور اثاثوں کی صورت میں کر کے قومی خزانے کے حوالے کر دی ہے، یہ چیزیں کرپشن سے زیادہ غفلت کا نتیجہ تھیں، یہ کام کسی ایک حکومت کا نہیں، 1947 سے چلا آ رہا تھا، ریلوے کے وزیر، سیکرٹریز، اسٹینڈنگ کمیٹی نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔
نیب راولپنڈی کے ڈی جی وقار احمد چوہان باوقار اور با عزت افسر ہیں جوسپیشل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں،نیب میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تحت جو نظام بنایا گیا وہ وقار احمد چوہان کا ہی کارنامہ ہے،ہم وقار احمد چوہان کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب پچاس کروڑ روپے سے کم مالیت کا کوئی کیس نہیں دیکھ سکتا،ہمیں دس یا بیس کروڑ تک کے کیسز پر بھی جانا چاہیے، بڑے ٹھیکے کرنے والے پچاس کروڑ سے کم میں تقسیم کر دیتے ہیں تاکہ نیب دیکھ نہ سکے۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ ہائوسنگ فائونڈیشن اور ہائوسنگ اتھارٹی کے پلاٹس میں بے ضابطگیاں ہوئیں،ملازمین کو اب تک پلاٹس نہیں دیے گئے، اس معاملے پر کام جاری ہے، اگلی بریفنگ میں اچھی خبریں دیں گے۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیوکی انکوائری نیب کے پاس تھی وہ بھجوا دی ہے، سی ڈی اے کے سسٹم کو دیکھ کر کہا ہے کہ اس کا پورا نظام بدلا جائے، یہ کام ٹھیک نہیں چل رہا، اس کو تبدیل کریں۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ بڑے جمہوریت پسند ممالک جو ہمیں لیکچر دیتے ہیں ان کا منی لانڈرنگ کے حوالے سے کردار مشکوک ہے، وہ کرپشن کے معاملات پر ہمیں جواب ہی نہیں دیتے،منی لانڈرنگ پر پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ پولیٹیکلی ایکسپوزڈ پرسن ہے،کبھی کہتے ہیں ہماری سیکریسی ہے، ہماری انویسٹمنٹ کا معاملہ ہے، وہ لوگوں کو چھپاتے ہیں۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ اب پیسہ پاکستان سے باہر منی لانڈرنگ میں نہیں جا رہا،جو پیسہ گیا تھا اس کا جانا بھی رک گیا ہے،گلف وار اور یورپ کے معاشی حالات کی وجہ سے پیسہ باہر نہیں جا رہا، تقریباً ایک لاکھ سینتالیس ہزار بچے پاکستان سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں،جب ان سے پوچھتے ہیں یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے تو جواب نہیں دیتے، ان کے ریکارڈ اور چیزوں کو چھپایا جاتا ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ایک سو اسی ارب روپے ہم نے ضبط کیے ہیں، دسمبر تک یہ کیسز اوپن ہو جائیں گے، ہم خود منی لانڈرنگ کا بہت بڑا وکٹم ملک ہیں، ہمارے اوپر باہر کے ممالک الزامات لگاتے ہیں کوئی ثبوت نہیں دیتے،میڈیا اسے اچھالتا ہے،نیب نے پاکستان کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ریکوریاں کر کے قومی خزانے کو دی ہیں،اگلے مرحلے میں جن سے ریکوریاں ہوئی ہیں ان پر کرمنل کیسز درج کرائے جائیں گے۔
چیئرمین نیب نے بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والوں کے متعلق کہاکہ جو لوگ پانچ لاکھ، دس لاکھ ڈالر یہاں سے لے کر جاتے ہیں، پلازے خریدتے ہیں، دبئی ہو، کینیڈا ہو، وہاں کوئی پوچھتا ہی نہیں، کوئی اپنے بچے کی نوے ہزار ڈالر دو سمسٹرز کی فیس دے رہا ہے، جب پوچھتے ہیں تو ہمیں جواب نہیں دیتے، سسٹم نہیں بیٹھا، ہمارے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں، ہماری غلطی ہو تو ہم کیس واپس بھی لے لیتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں ایک معصوم کو بھی نہیں پکڑنا چاہیے،چاہے دو غلط لوگ چلے جائیں لیکن کسی معصوم کو نہیں پکڑا جانا چاہیے، میں کسی حکومت کا نمائندہ نہیں ہوں۔
چیئرمین نیب نے کہاکہ ہم ان ٹچ ایبلز کو بھی ٹچ کر رہے ہیں، جو بزنس مین یہاں سے بھاگ گئے ہیں،جن کا ریڈ نوٹس ایشو ہے، وہ قانون کے مطابق پاکستان آئیں،ہماری ان سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں،وہ عدالت کے مطابق فیصلے پر آئیں، اپنا بزنس کریں،قانون کو فالو کریں۔
بریفنگ کے دوران نیب کی جانب سے بتایاگیاکہ سال 2026ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.2 ٹریلین (92 کھرب) روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کیے گئے۔
اس طرح سال 2026 کے دوران اب تک مجموعی طور پر 14.6 ٹریلین روپے مالیت کی قیمتی سرکاری اراضی اور دیگر اثاثے بازیاب کیے جا چکے ہیں۔
پنجاب اور سندھ میں پاکستان ریلویز اور نیب کے اشتراک سے علاقائی بیوروز کی سطح پر چھ مشترکہ ٹاسک فورسز تشکیل دی گئی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان ریلویز کی 235,622 کنال (29,453 ایکڑ) قیمتی اراضی بازیاب کی گئی، جس کی مالیت 6.78 ٹریلین روپے ہے۔
محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور محکمہ شاہرات سمیت مختلف صوبائی محکموں کی 866,299 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کی گئی جس کی مالیت 2.395 ٹریلین روپے ہے۔
تیسری سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 9.18 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب ہوئے، جو 2026ء کی پہلی دو سہ ماہیوں میں ہونے والی 5.41 ٹریلین روپے کی مجموعی بازیابی کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ ہیں۔
نیب سکھرنے صوبائی محکمہ مال کی 51.41 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 1.14 ارب روپے ہے، اور کراچی ڈویژن کے اہم شہری علاقوں کے قریب واقع پاکستان ریلویز کی 179,072 کنال اراضی، جس کی مالیت 5.06 ٹریلین روپے ہے، بازیاب کی۔
نیب بلوچستان نے محکمہ جنگلات کی 811,967 ایکڑ اراضی بازیاب کی ، جس کی مالیت 1.71 ٹریلین روپے ہے۔نیب ملتان نے صوبائی محکمہ مال، محکمہ جنگلات اور محکمہ شاہرات کی 43,028 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 102.97 ارب روپے ہے، جبکہ پاکستان ریلویز کی 49,426 کنال اراضی، جس کی مالیت 1.56 ٹریلین روپے ہے، بازیاب کی۔
نیب لاہورنے صوبائی حکومت کی 4,380 ایکڑ قیمتی اراضی، جس کی مالیت 563.07 ارب روپے ہے، اور پاکستان ریلویز کی 7,124 کنال اراضی، جس کی مالیت 156.10 ارب روپے ہے، بازیاب کی۔
نیب خیبر پختونخوانے محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی 6,872 ایکڑ اراضی بازیاب کی جس کی مالیت 16.16 ارب روپے ہے۔ نیب اسلام آباد،راولپنڈی اور نیب خیبر پختونخوا نے بحریہ ٹائون اور کوہستان اسکینڈل سے متعلق مقدمات میں پلی بارگین کے ذریعے 2.22 ارب روپے بازیاب کیے۔
متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے نیب نے تیسری سہ ماہی کے دوران 4,280 متاثرین کے بینک اکائونٹس میں 908.42 ملین روپے منتقل کیے۔ نیب نے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.