کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمیشن ا وٹاوا ور ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور میں قائم قونصلیٹ جنرلز نے آج 'یومِ سیاہ کشمیرکے موقع پر تقریبات کا اہتمام کیا۔ ان تقریبات کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) کے ان عوام کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرنا تھا جو اپنے ناقابلِ تنسیخ حق اور جائزِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ایک جائزجدوجہد کر رہے ہیں۔ ہائی کمیشن میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں دستاویزی فلم کی نمائش، تصاویر کی نمائش اور انسانی حقوق کے حامیوں کی جانب سے اظہارِ خیال شامل تھا۔ ان تقریبات کے دوران مقررین نے مسئلہ کشمیر اور بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے معصوم شہریوں کو درپیش غیر انسانی مظالم کو اجاگر کیا۔ 'یومِ سیاہ کشمیر' کے موقع پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ان پیغامات میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے غیر متزلزل اور مسلسل  اس سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا گیا، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے حقِ خود ارادیت کے حصول تک جاری رہے گی۔ کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانے اور حل طلب مسائل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں اور تنازعہ  مقبوضہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 'یومِ سیاہ کشمیر' منانے کا مقصد 27 اکتوبر 1947 سے بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر پر کیے گئے اس غیر قانونی قبضے کی مذمت کرنا ہے، جو وہاں کے عوام کی مرضی اور امنگوں کے سراسر منافی ہے۔ کشمیر بارے یوم سیاہ کی تقریب تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور بھارتی غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر  کے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک  غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ ا کرتی ہے جب تک کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جائز امنگوں کو پورا نہیں کیا جاتا۔