اسلام آباد پولیس نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور کیے جانے کے بعد ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا اور انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر دونوں کو پھر جیل بھیج دیا۔ ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو نئے مقدمے میں اسلام آباد پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا اور اسلام آباد پولیس کے ایس پی خرم اشرف دونوں کو لے کر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایس پی اسلام آباد کے ہمراہ مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی تھے، ایس پی آپریشن 10 گاڑیوں میں نفری لے کر اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو لے کر اسلام آباد روانہ ہوگئی اور دونوں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں طلبی کروائی گئی ہے۔ بعد ازاں دونوں کو انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش کردیا گیا جہاں جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے 30 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے۔ قبل ازیں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لیا تھا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے سماعت کے دوران ان کے وکیل سے کہا کہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے ان کی عزت رکھ رہے ہیں، تاہم انہیں بھی کہہ دیں کہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک دی جارہی ہے۔