پاکستان ریلوے میں کوٹھیوں اور کوارٹرز کی مبینہ بوگس الاٹمنٹ کے اسکینڈل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، ریلوے حکام نے فراڈ کیس میں 16 ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریلوے کے 200 سے زائد کوارٹرز کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ کے ذریعے بھاری رشوت وصول کی گئی۔ اسکینڈل کا سراغ ریلوے کے شعبہ ویجیلنس سیل نے لگایا، جہاں متعلقہ افسران کے جعلی دستخطوں سے بوگس الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے کوارٹرز کی جعلی الاٹمنٹ کے معاملے میں بعض ملازمین کے خلاف ریلوے پولیس میں مقدمہ بھی درج ہے۔ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 16 ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ معطل کیے جانے والے ملازمین میں زاہد منظور، عادل شہزاد، کلیم اصغر، رفاقت، راشد رشید، غلام تبسم، ضیغم ڈار، وکیل اعوان، ذیشان شاہد، حافظ شفیق، کاشف بٹ، توقیر حسین، مبارک، محمد نذر، کاشف اور ضیغم شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق معطل ملازمین کا تعلق ریلوے ہیڈکوارٹرز، مغلپورہ ورکشاپ اور ریلوے لاہور ڈویژن سے ہے۔