ایکسپریس اردو
جنگ میں معاشی نقصانات کے باوجود آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھیں گے؛ ایران
ایران کی قیادت نے امریکا کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے معاشی نقصانات اور ملک کو درپیش مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے داخلی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے حکومت کو جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور عوامی پریشانیوں سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی بیرونی تجارت میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ معاشی دباؤ برداشت کرے گا مذاکرات کے ذریعے کسی حل کی کوشش جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔
ایران کے لیے یہ آبنائے عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں جنگ اور پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کو حکومت کی بنیادی تشویش قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کی ترجیحات میں مہنگائی پر قابو پانا، مارکیٹ کو مستحکم کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، ملکی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانا اور بتدریج معیشت کا انحصار امریکی ڈالر پر کم کرنا شامل ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے چھ ماہ بعد بھی مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اور فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر مالی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکومت نے اپنی اس وسیع تر معاشی مہم کو "Economic D-Day" کا نام دیا ہے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.