پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاسی مخالفین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔نیلسن منڈیلا اور برما میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سب کو معلوم ہیں۔ پاکستان میں سیاسی مخالفین کے ساتھ غیر سیاسی سلوک پہلے مارشل لا سے شروع ہوئے تھے، جب ایبڈو قانون کے تحت تمام سیاسی مخالفین پر سیاست کرنے کی پابندی لگی تھی اور صرف سرکاری کنونشن مسلم لیگ کو کھل کر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جب کہ حکومت مخالف کونسل مسلم لیگ، جماعت اسلامی، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، جے یو آئی بڑی اور نوابزادہ کی جمہوری پارٹی و دیگر چھوٹی پارٹیاں موجود تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کے قابل اعتماد وزیر اور کنونشن لیگ میں نہایت اہمیت کے حامل رہنما تصور کیے جاتے تھے جنھوں نے بعد میں ایوب خان کی مخالفت میں وزارت چھوڑ کر 1967 میں پیپلز پارٹی قائم کی تھی۔ 1968 میں ایوب حکومت کے خلاف عوامی احتجاج پر مخالفین کی سیاسی گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ 1969 میں جنرل یحییٰ نے ایوب خان سے خود اقتدار لے لیا تھا اور 1970 میں نئے انتخابات کے لیے جنرل یحییٰ نے عام انتخابات کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو سیاسی آزادی دی تھی جو انتخابات کے نتائج برآمد نہ ہونے سے پوری نہ ہو سکی تھی ۔ جنرل یحییٰ ہی کے دور میں مشرقی پاکستان میں بھاری اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے گرفتار کرکے لایا گیا تھا اور سندھ و پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے والے بھٹو کی نئی سیاست کا نیا نعرہ سنا گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو ملک ٹوٹنے کے بعد بقیہ پاکستان کے وزیر اعظم بنائے گئے تھے جن کی پارٹی کے پاس سندھ و پنجاب کی حکومتیں بھی تھیں اور بعد میں انھوں نے سرحد و بلوچستان میں پی پی کی حکومتیں بنوا لی تھیں اور اپنی مخالفت پر نیپ کے سربراہ ولی خان کو گرفتار اور نیپ پر پابندی بھی لگا دی تھی اور اس کے اہم عہدوں پر رہنے والے رہنماؤں کو گرفتار بھی کرا دیا تھا۔ 1977 میں بھٹو حکومت کے متنازعہ انتخابات میں دھاندلی کے باعث ان کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلی تو پیرپگاڑا کے سوا تمام سیاسی قائدین سے جیلیں بھر دی گئی تھیں اور ان کے ساتھ شرم ناک سلوک کیے جانے کا آغاز ہوا تھا۔ بھٹو حکومت میں مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ بھٹو حکومت جنرل ضیا الحق کے مارشل لا سے ختم اور وزیر اعظم بھٹو گرفتار ہوئے تھے۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں کے ادوار میں دونوں کی سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور نواز شریف کے غیر سیاسی بزرگ والد کو بھی نہیں بخشا گیا جب کہ آصف زرداری تو پہلے سے جیل میں تھے۔ جنرل مشرف نے نواز شریف کو برطرف کرکے ان کے ساتھ غیر سیاسی سلوک کیا تھا اور انھیں جہاز میں ہتھکڑیاں لگا کر کراچی لایا گیا تھا۔ ان کا پورا خاندان گرفتار کرایا گیا پھر نواز شریف جنرل پرویز سے معاہدہ کرکے جلاوطن ہو گئے تھے مگر بھٹو جنرل ضیا سے نہ بچ سکے تھے اور پھانسی چڑھ گئے تھے۔ نواز شریف اور بے نظیر نے جنرل مشرف کے انتقام سے سبق سیکھ لیا تھا اور 2008 سے 2018 تک دونوں کی پارٹیوں کی حکومتوں نے کوئی محاذ آرائی نہیں کی اور اپنی مدت بھی پوری کی مگر پی پی کے وزیر اعظم گیلانی اور (ن) لیگ کے میاں محمد نواز شریف عدالتی انتقام کا نشانہ ضرور بنے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دور میں اپنی مخالف دونوں بڑی پارٹیوں پی پی اور (ن) لیگ سے بھرپور سیاسی انتقام اپنا ذاتی انتقام سمجھ کر لیا۔انھوں نے اپنے مخالف تمام رہنماؤں کو جیل میں ڈالا اور ان کا دور بھی فسطائیت کا دور شمار ہوتا ہے۔ مستقبل میں بڑی پارٹیاں حال اور ماضی سے سبق سیکھ لیں تو سیاسی مخالفین سے انتقامی سلسلہ ختم ہو سکتا ہے۔