وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے انٹرنیشنل ملٹی گروپ آف کمپنیز کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ آئی ایم جی سی کے وفد کی قیادت چیئرمین شیخ امجد رشید نے کی جبکہ وفد میں جنرل منیجر ٹریڈ اینڈ کموڈٹیز شہریار خان، ہیڈ آف کیسٹر اینڈ سیسمی پروجیکٹ اعجاز چوہدری اور ریسرچ اینالسٹ زوہیب حسن شامل تھے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر معدنیات و معدنی وسائل سید سردار شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری سرمایہ کاری راجہ خرم شہزاد، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو اور سیکریٹری معدنیات و معدنی وسائل سہیل بلوچ نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت برآمدی فصلوں پر تحقیق کے فروغ کے لیے کمپنی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے سرمایہ کاری اور زراعت کے محکموں کو کمپنی ماہرین کے ساتھ مشاورت کی ہدایت  کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی فصلوں پر تحقیق آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جائے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے کھلا ہے، ہم تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ روایتی زراعت سے اعلیٰ قدر کی حامل زرعی خوراک کی پراسیسنگ کی جانب منتقل ہونا ہمارا مقصد ہے۔ انٹرنیشنل ملٹی گروپ کے منصوبے سے غیرملکی سرمایہ کاری اور دیہی نوجوانوں کے لیے ہزاروں روزگار پیدا ہوں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کمپنی پورٹ قاسم میں تل اور ارنڈی کے بیجوں کی پراسیسنگ کے لیے 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ مجوزہ مربوط پلانٹ کا مقصد پاکستان میں زیادہ قدر برقرار رکھنا اور عالمی خریداروں کو معیاری مصنوعات فراہم کرنا ہے۔ پلانٹ میں تل کی پراسیسنگ، ارنڈی کے بیجوں کی تیاری اور ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات شامل ہوں گی۔ کمپنی کی جانب سے بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پراسیسنگ پلانٹ میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ پاکستان میں تل کے تیل کی پراسیسنگ کا کوئی مناسب یونٹ موجود نہیں۔ کمپنی تلینی اور ضروری تیل کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کاشتکاروں کو تل اور ارنڈی جیسی نقد آور فصلوں کی جانب راغب کرنا ضروری ہے۔ محکمہ زراعت کاشتکاروں کو تیل کے حصول کے لیے تل اور ارنڈی کی کاشت پر آمادہ کرے۔ بریفنگ میں کمپنی کے حکام نے بتایا کہ عالمی سطح پر ارنڈی کے بیجوں کی سالانہ پیداوار تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے۔ عالمی پیداوار میں بھارت کا حصہ تقریباً 80 فیصد ہے۔ عالمی منڈی میں ارنڈی کے تیل کی مالیت تقریباً ایک ارب 85 کروڑ ڈالر ہے۔ بھارت نے 2025 میں 10 لاکھ 66 ہزار ڈالر مالیت کا ارنڈی کا تیل اور اجزا ، جبکہ 2025 ہی میں 6 لاکھ 77 ہزار 76 میٹرک ٹن ارنڈی کا تیل برآمد کیا۔ کمپنی حکام کے مطابق چین، نیدرلینڈز اور امریکا بھارتی ارنڈی کے تیل کے بڑے خریدار ہیں۔ پاکستان میں ارنڈی کے بیجوں کی سالانہ پیداوار صرف 4 سے 5 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ پاکستان سے ارنڈی کے بیجوں کی برآمدی قیمت 700 سے 800 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے۔ ارنڈی کے تیل کی فی میٹرک ٹن قیمت 1600 سے 1700 ڈالر ہے۔ خصوصی کیمیکلز میں استعمال ہونے والے سیباسک ایسڈ کی قیمت 4 ہزار سے 4500 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے۔ حکام نے بتایا کہ مقامی پراسیسنگ سے پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی زیادہ قدر حاصل کرسکتا ہے۔ انٹرنیشنل ملٹی گروپ خود کاشتکار نہیں بلکہ معاہدے کے تحت ہائبرڈ ارنڈی بیج فراہم کرے گی۔ کمپنی کاشتکاروں کو طے شدہ شرائط کے تحت خریداری کی ضمانت بھی فراہم کرے گی اور کاشتکاروں سے فصل خرید کر بیج برآمد اور تیل و دیگر مصنوعات تیار کرے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں بدین، ٹھٹھہ، نگرپارکر اور عمرکوٹ ارنڈی کی کاشت کے لیے موزوں علاقے ہیں۔ کمپنی کے تخمینے کے مطابق ارنڈی کی فی فصل فی ایکڑ خالص آمدن 21 ہزار 500 روپے ہوسکتی ہے۔ سورج مکھی کی فی فصل فی ایکڑ آمدن 13 ہزار روپے جبکہ گندم کی 14 ہزار 800 روپے بتائی گئی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ آمدن کے یہ اعدادوشمار فی فصل ہیں، سالانہ آمدن نہیں۔ اجلاس کے شرکا کو دی گئی بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ کمپنی نے 18 ماہ کی کوششوں کے بعد چین میں ٹیکنالوجی اور پراسیسنگ شراکت داریاں حاصل کرلی ہیں۔ امریکا اور کینیڈا میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی منڈیوں کو فروغ دینے پر بھی کام جاری ہے۔ اجلاس میں معدنیات سے متعلق کمپنی کا مائن ٹو مارکیٹ ماڈل بھی اجلاس میں زیر بحث آیا، جس میں  لوہے، باکسائٹ، راک فاسفیٹ، تانبے، اینٹیمنی، کروم، گرینائٹ، میکا، کوئلے اور سلفر کی تجارت شامل ہے۔ اس ماڈل میں سپلائرز کی جانچ، آزادانہ ٹیسٹنگ، اندرون ملک نقل و حمل اور اسٹاک یارڈ مینجمنٹ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بندرگاہ پر ہینڈلنگ اور بلک لاجسٹکس بھی کمپنی کے مجوزہ مائن ٹو مارکیٹ ماڈل کا حصہ ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سردار شاہ نے کہا کہ معدنی وسائل کو زرعی پیداوار، زمین کی بہتری اور پراسیسنگ انفرااسٹرکچر سے جوڑنا اہم ہے۔ معدنی دولت اور جدید زرعی طریقوں سے پائیدار نظام قائم کرکے پیداوار اور عالمی معیار بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ چیئرمین شیخ امجد رشید نے کہا کہ سندھ کی زمین اور آب و ہوا قدرتی طور پر بہترین مواقع فراہم کرتی ہے۔ انٹرنیشنل ملٹی گروپ زرعی خوراک کے شعبے میں عالمی بہترین طریقہ کار سندھ میں متعارف کرانا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے منصوبے میں سہولت کاری کے عزم کو سراہتے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے زراعت اور سرمایہ کاری کے سیکریٹریز کو کمپنی سے قریبی رابطہ رکھنے کی  ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا حتمی روڈ میپ مرتب کرکے تمام ضابطہ جاتی رکاوٹیں دور کی جائیں۔