بعض اوقات ذہین و فطین سیاستدان اور مذہبی رہنما جوش خطابت یا زعم طاقت میں ایسے جملے ادا کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں منہ میں چھپکلی بن کر ایسے اٹک جاتے ہیں کہ اگلی جائے نہ نگلی جائے والی صورت بن جاتی ہے اوریار لوگ اسے موقع بہ موقع طنز کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔سیاست کے میدان کو دیکھیں تو بھی ہمیں بہت سی مثالیں نظر آتی ہیں جب کہ صاحبان اقتدار کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب نے کراچی میں شدید بارشوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہہ دیا ،’’زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔‘‘پیپلز پارٹی کے مخالفین نے اس ایک جملے کو لے کر ایسی ایسی میمز بنائیں کہ اللہ کی پناہ ۔ حالانکہ یہ الفاظ اتنے غلط بھی نہیں ہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بارشیں زیادہ ہوں گی تو یقینی طور پر پانی بھی زیادہ ہو گا لیکن چونکہ یہ جملہ جس موقع پر کہا گیا‘اس کی حساسیت اور سنگینی زیادہ تھی۔ بہرحال سیانے کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا تیر اور زبان سے ادا کیے الفاظ کبھی واپس نہیں جاتے۔ یوں آج بھی کسی کا مذاق اڑانا ہو تو یہی الفاظ کہے جاتے ہیں‘ زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔ یہ تو ایک لائٹر نوٹ میں کہی گئی بات تھی لیکن بعض اوقات بڑے لوگوں کے منہ سے بڑی بات بھی نکل جاتی ہے ، جس کے لیے پھر بعد میں سو قسم کی وضاحتیں اور تاویلات پیش کر کے خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ دنوں پہلے مولانا فضل الرحمان نے قصور شہر میں ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ اپنے خطاب کے دوران وہ بھی ایسے جملے ادا کر بیٹھے ‘جس پر بعد میں سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر خاصے دنوں تک بحث و مباحثہ جاری رہا۔ مشہور ضرب المثل ہے، تلوار کا زخم بھر جاتا ہے‘ لیکن زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا۔ یہ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے، پہلے ’’تولو پھر بولو‘‘ مگر یہ بھی سچ ہے کہ غلطی ہمیشہ سمجھداروں سے ہوتی ہے‘ یہ ماہر تیراک بعض اوقات زعم تیراکی میں ڈوب جاتے ہیں‘ شاید قبلہ فضل الرحمان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے حالانکہ وہ کبھی وائڈ یا نو بال نہیں کرتے بلکہ لوز بال دیتے ہی نہیں لیکن سب نے دیکھا، پنجاب کے ضلع قصور میں آ کر میدان سیاست کا یہ ماہر کھلاڑی بھی فاؤل کر بیٹھا۔ پتہ نہیں کہ یہ پنجاب کے پانی اور ہوا کی تاثیر ہے کہ انسان خواہ مخواہ دلیر‘ اتھرا اور منہ زور ہو جاتا ہے۔  آپ کو یاد ہو گا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جلسہ میں پتہ نہیں کیا کہا لیکن اخبار کی ہیڈ لائن کچھ یوں لگی ،ادھر تم ادھر ہم۔اس ایک اخباری ہیڈ لائن نے ذوالفقار علی بھٹو کو محرم سے مجرم بنا دیا۔ حالانکہ انھوں نے یہ الفاظ کہے ہی نہیں تھے۔ عباس اطہر مرحوم جنھیں صحافیوں میں شاہ جی کے نام سے جانا جاتا ہے ‘یہ سرخی انھوں نے بنائی تھی۔وہ روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر تھے ‘انھوں نے میرے سامنے یہ کہا تھا کہ یہ ہیڈ لائن بھٹو صاحب کی تقریر میں سے اخذ کیے گئے الفاظ تھے ، بھٹو صاحب نے یہ الفاظ کہے نہیں تھے۔ جس وقت انھوں نے یہ بات کی ان کے کمرے میں ایکسپریس کے موجودہ گروپ ایڈیٹر ایاز خان اور ہمارے ادارے کے نامور تحقیقی صحافی خالد قیوم سمیت کئی دیگر صحافی بھی موجود تھے ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ انھوں نے یہ وضاحت کی تھی۔انھوں نے کئی ٹی وی پروگراموں میں بھی اور اپنے کالموں میں بھی اس حوالے سے وضاحت کی تھی کہ بھٹو صاحب کے ساتھ جو الفاظ منسوب کیے گئے تھے یہ انھوں نے ادا نہیں کیے تھے لیکن کیا کیا جائے کہ آج بھی بھٹو صاحب کے مخالفین موقع ملنے پر انھی الفاظ کو لے کر بھٹو صاحب پر ناجانے کیا کیا الزامات عائد کرتے ہیں۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بڑے لوگوں کی مخالفتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔بعض اوقات الفاظ کچھ ادا ہوتے ہیں اور مخالفین اسے کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں۔جس کا پروپیگنڈا سیل بڑا ہو گا ‘وہ اتنا ہی کامیاب ہو گا۔ مولانا صاحب آج کل پھر لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں اور انھوں نے خاصا مصروف وقت گزارا۔ ٹی وی اینکرز اور کالم نویسوں سے ملاقات بھی کی ہے اور عالمی مجلس ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ محترم فضل الرحمان کا اقتدار کے ایوانوں میں آنا جانا مدتوں سے جاری ہے۔وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہے ہیں اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ اپنی جماعت جے یو آئی کے سربراہ بھی ہیں۔اس حیثیت میں یقیناً وہ بہت سے پس پردہ حقائق سے آگاہ ہوں گے۔ وہ سیاست کے گرم و سرد چشیدہ ہیں۔جملہ مارنا اور بزلہ سنجی کا ہنر بھی انھیں خوب آتا ہے۔تحریک انصاف کے دور اقتدارمیں انھوں نے جنرل باجوہ کے لیے ’’نکے کے ابا‘‘ ظریفانہ نام رکھا تھا۔ یہ اتنا شستہ طنز تھا کہ جن کے لیے یہ الفاظ کہے گئے تھے وہ بھی اس طنز کی شگفتگی سے محظوظ ہوئے ہوں گے۔اب بھی انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کے لیے ’’کاکا ‘‘کا نام استعمال کیا ہے۔سیاستدانوں کی موجودہ لاٹ میں یہ ہنر مولانا کے سوا شاید ہی کسی دوسرے کو آتا ہو۔نئے صوبوں کے ایشو پر انھوں نے ’’ کاکے‘‘کے بارے میں جو کچھ کہا ہے ‘وہ اپنی جگہ غور طلب بات ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے سیاسی اور ادارہ جاتی ارینجمنٹ میں ’’کاکے‘‘ ہمیشہ سے کلیدی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جب بھی کسی کے ہاں ’’کاکا ‘‘آتا ہے تو اسے شروع میں نیک شگون کے طور پر لیا جاتا ہے لیکن جیسے جیسے کاکا بڑا ہوتا ہے تو پھر اس کی اٹھکیلیاں اور فرمائشیں ’’کھیلن کو مانگے چاند‘‘ جیسی ہو جاتی ہیں۔ کاکا ایسا کیوں نہ کرے ‘جب منہ سے نکلے ہوئے الفاظ فوراً پورے ہو جائیں تو پھر کاکا صاحب تو کھیلنے کے لیے چاند کو مانگیں گے ہی۔بہرحال بات مولانا صاحب کی ہو رہی تھی‘ اب وہ بھی سیاست میں کٹی پتنگ بنے ہوئے ہیں،یہ پتنگ کس کے نصیب میں ہے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔پی ٹی آئی والے تو سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے ہیں ‘محمود اچکزئی کے ساتھ مولانا کی ملاقاتیں بڑے خوش گوار ماحول میں ہوئی ہیں اور یہ دونوں بڑے ہشاش بشاش بھی نظر آتے ہیں ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی پر امید ہیں کہ وہ حضرت مولانا کا دل جیتنے میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن عشق کی دنیا میں یہ بات مشہور ہے کہ ’’دل کسی کا دوست نہیں‘‘ اس نام سے شاید کوئی فلم بھی بن چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ فلمی باتیں سچ نہیں ہوتیں جب کہ عشق کی دنیا ‘حقیقت پسند نہیں ہے جب کہ سیاست سوائے حقیقت کے اور کچھ نہیں ہوتی۔ اڈیالہ جیل کے قیدی کیا کر رہے ہیں‘تازہ خبر تو یہ ہے کہ جیل میںجناب بانی پی ٹی آئی اور سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات ہو گئی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی سسٹرز ملاقات نہیں کر سکیں گی۔اب آگے ایک توعدالتی مقدمات کی پیشی ہے اور دوسری پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا غلغلہ ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ تازہ تازہ سندھ کے دورہ کر کے لوٹے ہیں۔ سنا ہے انھیں اندرون سندھ خاصی پذیرائی ملی ہے جب کہ کراچی میں انھیں کھل کر عوام سے رابطہ کرنے نہیں دیا گیا۔ اب وہ پرعزم ہیں کہ 27ستمبر کو 40لاکھ لوگ اسلام آباد لے کرجائیں گے‘ ماضی کی کارکردگی دیکھیں تو یقین نہیں آتا لیکن پاکستان کے سیاسی موسم کے اتار چڑھاؤ کے رنگ نرالے ہوتے ہیںاور ویسے بھی آج کل بھادوں کے آخری چند ایام چل رہے ہیں، اس موسم میں اچانک بادل امڈ آتے ہیں‘ ایک ہی سڑک کے آدھے حصے پر بارش ہو رہی ہوتی اور آدھا حصہ خشک نظر آتا ہے۔ کبھی مست ہوا چلتی ہے تو کبھی بلا کا حبس ہو جاتا ہے۔بھادوں میں ہی دن کے وقت سورج بھی چمک رہا ہوتا ہے اور چاند بھی آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔لہٰذا سیاست کا موسم بڑا ہی بے اعتبار ہے۔