انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے فیصلے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔  تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ موجودہ سات ملزمان کیخلاف براہ راست عینی شہادت پیش نہیں کرسکا۔ گواہان نے عدالت میں موجود ملزمان کو اغوا کاروں کے طور پر شناخت نہیں کیا۔ دونوں گواہان نے تاوان کی رقم کے مطالبے یا ادائیگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے سامنے ملزمان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی قابل اعتماد قانونی شہادت نہیں۔ قانون کے تحت پولیس افسر کے سامنے اعتراف جرم قابل قبول نہیں ہے۔ ملزمان کیخلاف براہ راست عینی شہادت موجود نہیں ہے۔  استغاثہ الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شک کا فائدہ ملزمان کو دیا جاتا ہے۔ استغاثہ کے اہم گواہان کی شہادت ملزمان کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں۔ موجودہ ملزمان کیخلاف سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔