ایکسپریس اردو
امریکا میں وسط مدتی انتخابات تاریخ کے مہنگے ترین الیکشن؛ کھربوں روپے جھونک دیے
امریکا میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مجموعی طور پر ایک ہزار 193 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہوسکتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیاسی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اوپن سیکرٹس نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال انتخابی مہمات پر ہونے والے اخراجات سابقہ تمام وسط مدتی انتخابات کا ریکارڈ توڑ دیں گے۔
تخمینے کے مطابق اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی مہم پر 552 کروڑ ڈالر خرچ کرے گی جبکہ حکمراں جماعت ریپبلکن پارٹی کے اخراجات 512 کروڑ ڈالر رہنے کی توقع ہے۔
اسی طرح آزاد امیدواروں اور گروہوں کی جانب سے بھی تقریباً 130 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ یوں اخراجات کی مجموعی رقم کے ایک ہزار کروڑ سے بھی تجاوز کرجانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے وسط مدتی انتخابات پر مجموعی طور پر 894 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ اس طرح رواں سال انتخابی اخراجات میں تقریباً ایک تہائی اضافہ متوقع ہے۔
امریکی تاریخ میں صرف 2020 اور 2024 کے صدارتی انتخابات ایسے تھے جن پر انتخابی مہمات کے لیے اس سے زیادہ رقم خرچ ہوئی تھی۔ ان دونوں انتخابات کے اخراجات تقریباً 1500 کروڑ ڈالر رہے تھے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.