طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے جو ملک میں وافر دھوپ کی دستیابی کے باوجود مختلف عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ خدشات عالمی یومِ وٹامن ڈی کے حوالے سے لاہور کے مال روڈ پر واقع آواری ہوٹل میں مقامی فارماسوٹیکل کمپنی کی جانب سے منعقد کیے گئے ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں سامنے آئے۔ سمٹ میں طبی ماہرین نے شرکت کی اور ہڈیوں کی صحت، خواتین کی صحت اور مجموعی جسمانی تندرستی پر وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔ میو ہسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے ’بچپن سے بڑھاپے تک: ہڈیوں کی صحت کے لیے وٹامن ڈی، زندگی بھر کا ساتھی‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی جسم میں ہڈیاں کئی اہم افعال انجام دیتی ہیں جن میں جسم کی حرکت میں مدد دینا، اہم اندرونی اعضا کی حفاظت کرنا اور جسم میں کیلشیم کا توازن برقرار رکھنا شامل ہیں۔ کیلشیم دل، پٹھوں اور اعصاب کی درست کارکردگی کے لیے ضروری ہے جبکہ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے اور اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر فیصل مسعود کے مطابق پاکستان میں وافر دھوپ کے باوجود وٹامن ڈی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے مختلف اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی تقریباً 73 فی صد آبادی وٹامن ڈی کی کمی یا ناکافی سطح کا شکار ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کی متعدد وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جلد کی رنگت متاثر ہونے کے خدشے اور ملک کے شدید موسمی حالات کے باعث براہِ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس کے مخصوص طریقے، معاشرتی روایات، گھروں اور دفاتر میں زیادہ وقت گزارنے کا رجحان اور فضائی آلودگی بھی سورج کی روشنی سے مناسب استفادے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی بھی اس مسئلے میں اضافے کا باعث بنی ہے کیونکہ لوگ غذائیت کو ترجیح دینے کے بجائے ذائقے کی بنیاد پر خوراک کا انتخاب زیادہ کرنے لگے ہیں۔ آرتھوپیڈک ماہر نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے، بالخصوص عمر رسیدہ افراد میں۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھربھرا پن) اکثر اس وقت تک تشخیص نہیں ہو پاتا جب تک معمولی سی چوٹ یا گرنے کے نتیجے میں ہڈی نہ ٹوٹ جائے۔ ایک عمر رسیدہ خاتون کی طبی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گھر میں گرنے سے ہونے والا فریکچر کئی عوامل کا نتیجہ ہو سکتا ہے جن میں بڑھتی عمر، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، اسٹیرائڈ ادویات کا استعمال اور دیگر طبی مسائل شامل ہیں۔ ڈاکٹر فیصل مسعود نے زور دیا کہ ہڈیوں کی صحت کا خیال صرف بڑھاپے میں نہیں بلکہ بچپن ہی سے رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہڈیوں کی زیادہ سے زیادہ مضبوطی کا تقریباً 90 فی صد حصہ ابتدائی عمر میں حاصل ہو جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کو بیرونی سرگرمیوں، کھیل کود اور متوازن و غذائیت سے بھرپور خوراک کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ ان کی ہڈیاں مضبوط بن سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وٹامن ڈی کا کردار صرف ہڈیوں کی مضبوطی تک محدود نہیں بلکہ یہ دماغ کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور جسم میں کیلشیم کے مؤثر استعمال سمیت متعدد اہم جسمانی افعال میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی غذائیت اور جسمانی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ ابتدائی عمر میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے مستقبل میں ہڈیوں کے امراض اور فریکچر کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ راشد لطیف میڈیکل کالج لاہور کے شعبہ طب کی سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر اسماء قاضی نے پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی کے بحران اور اس کے مناسب علاج کے لیے طبی رہنما اصولوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ’وٹامن ڈی کی کمی کا جائزہ اور مؤثر علاج: پاکستان کا بحران اور پی ایس آئی ایم گائیڈ لائنز‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وٹامن ڈی کی کمی ایک بڑا عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ تاہم، انہوں نے طبی مشورے کے بغیر وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر اسماء قاضی نے کہا کہ وٹامن ڈی ان سپلیمنٹس میں شامل ہے جو طبی شعبے میں کثرت سے تجویز کیے جاتے ہیں۔ تاہم، ڈاکٹروں کے لیے تین بنیادی سوالات اہم ہیں: کن افراد کے وٹامن ڈی ٹیسٹ کیے جانے چاہئیں، کن افراد کو واقعی سپلیمنٹس کی ضرورت ہے اور ان کے لیے مناسب خوراک (ڈوز) کتنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی کی بلند شرح ظاہر کرنے والی مختلف تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ایک تحقیق میں وٹامن ڈی کی کمی کی شرح 84.3 فی صد جبکہ لیبارٹری ریکارڈ پر مبنی ایک سابقہ جائزے میں یہ شرح 61.1 فیصد رپورٹ کی گئی۔ تولیدی عمر کی خواتین سے متعلق تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 79.7 فی صد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار پائی گئیں، جن میں 54 فیصد میں درمیانے درجے جبکہ 25.7 فیصد میں شدید کمی رپورٹ ہوئی۔ ڈاکٹر اسماء قاضی کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی تحقیقات میں بچوں اور بالغ افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کی شرح 74 سے 95.1 فی صد تک سامنے آئی ہے۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ شہری اور دیہی دونوں آبادیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فضائی آلودگی، سورج کی روشنی سے محدود استفادہ، لباس کے مخصوص طریقے، جلد کی قدرتی رنگت اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤں کی کمی اس مسئلے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر اسماء قاضی نے کہا کہ بچوں، نوجوانوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین، بزرگ افراد اور موٹاپے، گردوں یا جگر کے امراض اور غذائی اجزا کے جذب ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس کا استعمال مریض کی طبی حالت، عمر اور انفرادی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ڈاکٹروں کو زیادہ مقدار میں سپلیمنٹس تجویز کرنے سے پہلے مریض کی طبی تاریخ کا جائزہ لینے، ممکنہ خطرات کا تعین کرنے اور ضرورت کے مطابق متعلقہ ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وٹامن ڈی کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص کے لیے معمول کے طور پر زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی لینا مناسب نہیں، بلکہ علاج طبی رہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر اسماء قاضی نے مزید وضاحت کی کہ وٹامن ڈی کی روزانہ ضرورت عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اپنی ضروریات متوازن غذا اور سورج کی روشنی سے پوری کر سکتے ہیں۔ تاہم، جہاں یہ ذرائع ناکافی ہوں، کسی فرد میں وٹامن ڈی کی کمی کی تصدیق ہو جائے یا وہ زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل ہو، وہاں ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سمٹ کے دوران لاہور جنرل ہسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اندلیب ارشد نے بھی خواتین کی صحت اور وٹامن ڈی کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔