برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین میکلم نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بیرونی دشمنوں سے متعلق خطرات چار گنا بڑھ گئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق لندن میں سالانہ خطاب کرتے ہوئے سر کین میکلم نے کہا کہ روس برطانیہ کے لیے سب سے بڑا ریاستی خطرہ ہے اور سائبر حملوں، تخریب کاری اور غلط معلومات کے ذریعے یورپی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد تقریباً ایک ہزار روسی اہلکاروں کو بے دخل کیے جانے سے ماسکو کی خفیہ کارروائیوں کی صلاحیت متاثر ہوئی جس کے بعد وہ اپنے مقاصد کے لیے جرائم پیشہ افراد کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی آف ایم آئی فائیو کے سربراہ نے کہا کہ ایران سے منسلک سرگرمیوں کے سلسلے میں گزشتہ ایک سال کے دوران 50 گرفتاریاں کی گئیں جن کی سرگرمیوں کا ہدف زیادہ تر برطانیہ میں یہودی اور فوجی تنصیبات رہی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ صرف گلوسٹرشائر میں واقع فضائی اڈے کے قریب مشتبہ گاڑیاں کھڑی کرنے کے واقعے میں بھی سات افراد کو گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ ایم آئی فائیو کے چیف نے مصنوعی ذہانت کو بھی ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اس ٹیکنالوجی کو نگرانی، حملوں کی منصوبہ بندی اور ڈرونز کے استعمال میں بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت حیاتیاتی ہتھیاروں کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ ان خطرات کا جائزہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق نیا مرکز قائم کیا گیا ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی دہشت گردی بھی بڑھ رہی ہے خصوصاً نوجوان انٹرنیٹ پر انتہا پسندانہ مواد سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان بقول برطانیہ میں اپریل میں ملک کا دہشت گردی کے خطرے کا درجہ بڑھا کر شدید کر دیا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ حملے کا امکان بہت زیادہ ہے۔