ایکسپریس اردو
چیئرمین پی ٹی آئی کا جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جاری دھرنوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی جماعت اسلامی کو انصاف کے لیے ہونے والے لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دے گی اور مہنگائی کے خلاف جدوجہد میں ساتھ دے گی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت کرتے ہیں اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق حافظ نعیم الرحمان کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کی پریس کانفرنس کو خوش آئند سمجھتا ہوں اور ہم نے ہمیشہ سے ان کے احتجاج کا ساتھ دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے، عوام کو ریلیف دینے کے لیے نکلے ہوئے ہیں اور ہم ان کے دھرنے کی حمایت کرتے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے اقدامات کریں جس سے عوام کو ریلیف ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہمارے انصاف کے لیے ہونے والے لانگ مارچ میں ہمارا ساتھ دیں اور باضابطہ طور پر ان کو دعوت دوں گا۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر دھرنوں کا 29واں روز ہے، لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، ہری پور اور سوات سمیت 35 سے زائد مقامات پر دھرنے اور احتجاجی کیمپ جاری ہیں، جبکہ 20 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت مذاکرات میں جتنی تاخیر کرے گی، دھرنے اتنے ہی بڑھتے جائیں گے، عوام کو ریلیف دلوانے تک جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی، لانگ مارچ کے ساتھ دھرنے بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کی جانب سے موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کی اسکیم کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ظالمانہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے پر مجبور ہوئی ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، ہری پور اور سوات کے علاوہ سکھر، چترال اور تیمرگرہ سمیت ملک بھر میں 35 سے زائد مقامات پر احتجاجی دھرنے اور کیمپ جاری ہیں۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.