امریکی کانگریس کے ہر دو برس بعد وسط مدتی انتخابات اب سے پہلے کوئی بڑی عالمی خبر نہیں تھے۔مگر صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران بالخصوص جس طرح ان کی پالیسیوں کے سبب عالمی نظام میں دھماچوکڑی مچی ہے اس کے سبب آج ( تین نومبر ) ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو باقی دنیا میں نہائیت دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں اور امریکن اسرائیل پبلک افیرز کمیٹی ( ایپک ) سمیت ہر شعبے کی لابیاں اب تک اپنے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی انتخابی مہم پر ساڑھے گیارہ ارب ڈالر خرچ کر چکی ہیں۔یہ بجٹ گزشتہ صدارتی انتخابی مہم کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔گویا آج کے وسط مدتی انتخابات امریکی کانگریس کی تاریخ کے سب سے مہنگے الیکشن ہیں۔ اس وقت کانگریس کے دونوں ایوان (ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ ) حکمران ریپبلیکن پارٹی کے کنٹرول میں ہیں۔لہذا من پسند قانون سازی اور بجٹ کی منظوری میں وائٹ ہاؤس کو کوئی مشکل درپیش نہیں۔اگر ان میں سے کوئی بھی ایوان حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول میں آ جاتا ہے تو موجودہ صدارتی پالیسیوں کو کچھ نہ کچھ لگام مل سکتی ہے۔ یعنی یہ وسط مدتی انتخابات صدارتی پالیسیوں پر ریفرینڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔مقابلہ اس قدر کانٹے کا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں مزید تین اور سینیٹ میں چار اضافی نشستیں مل جائیں تو کانگریس کا کنٹرول ان کے پاس آ سکتا ہے۔لیکن سینیٹ میں اکثریت ففٹی ففٹی ہو تو کنٹرول ریپلیکنز کے ہاتھ میں ہی رہے گا کیونکہ نائب صدر جے ڈی وینس چیئرمین سینیٹ ہیں اور فیصلہ کن کاسٹنگ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی چار سو پینتیس اور سینیٹ کی سو نشستیں ہیں۔سینیٹ کی مدت چھ برس اور ایوانِ نمائندگان کی دو برس ہے۔ آج اکیس کروڑ ووٹر ایوانِ نمائندگان کی تمام اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں ( تینتیس + دو = پینتیس ) کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔  ایوان نمائندگان کی نشستیں ہر ریاست کی آبادی کے تناسب سے مختص ہیں جب کہ سینیٹ میں ہر ریاست سے صرف دو سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں ۔ ایوانِ نمائندگان میں سب سے زیادہ نشستیں ریاست کیلی فورنیا کی ہیں یعنی باون۔جب کہ ریاست وائمونگ اور ورمونٹ کی بلحاظِ آبادی ایک ایک نشست ہے۔ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے درکار کم ازکم دو سو اٹھارہ نشستیں اس وقت ریپلیکنز کے پاس ہیں جب کہ ڈیموکریٹس کے پاس دو سو چودہ نشستیں ہیں۔ایک آزاد رکن ہے اور دو نشستیں خالی ہیں۔کانگریس کے دونوں ایوانوں کے آج منتخب ہونے والے ارکان تین جنوری کو حلف اٹھائیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایوانِ نمائندگان کی پینتیس نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ ہے۔ان میں سے بارہ پر کوئی بھی امیدوار جیت سکتا ہے اور یہی نشستیں فیصلہ کریں گی کہ نئے ایوان پر کس پارٹی کا کنٹرول ہوگا۔ موجودہ سینیٹ کی تریپن نشستوں پر ریپبلیکنز ، پینتالیس پر ڈیموکریٹس اور ان کے حامی دو آزاد سینیٹرز ہیں ۔ آج سینیٹ کی جن پینتیس نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے ان میں سے بائیس ریپبلیکنز اور تیرہ ڈیموکریٹ ارکان نے خالی کی ہیں۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکیاون سیٹیں حاصل کرنے کے لیے نہ صرف اپنی تیرہ خالی نشستیں برقرار رکھنی ہیں بلکہ چار ریپبلیکنز نشستیں بھی جیتنی ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ پینتیس میں سے گیارہ سینیٹ نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ ہے۔  آج ہی چھتیس ریاستوں میں نئے گورنروں، ریاستی اسمبلیوں اور بلدیاتی قیادت کے لیے بھی ووٹنگ ہو رہی ہے۔گویا ہر ووٹر کو کئی کئی ووٹ دینے ہیں۔اگرچہ باقی دنیا روائیتی طور پر امریکی صدارتی انتخابات میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے مگر ایک عام امریکی ووٹر کے لیے مقامی اداروں کے انتخابات زیادہ اہم ہیں۔ امریکی ووٹروں کے بارے میں مشہور ہے کہ انھیں خارجہ پالیسی یا جنگی امور سے زیادہ اس سے دلچسپی ہے کہ پولنگ والے دن ان کی روزمرہ جیب کتنی ہلکی یا بھاری ہے۔چنانچہ آج ایک اوسط ووٹر کے ذہن میں ایک برس پہلے کے مقابلے میں پٹرول کے دوگنے نرخ ، گھروں کی بڑھتی قیمتیں ، روزمرہ اشیا کی گرانی اور علاج معالجے کے اضافی اخراجات گھوم رہے ہیں۔اس کے بعد کی ترجیحات میں جمہوری اقدار کا زوال ، تارکینِ وطن کا مسئلہ اور پھر کہیں امریکا کی بیرونی جنگیں اور کئی ریاستوں میں تیزی سے قائم ہونے والے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے سبب پانی کا بڑھتا ہوا بحران جیسے مسائل ووٹر کو تنگ کرتے ہیں۔ پولنگ سے ایک ہفتہ پہلے کے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ کی داخلہ پالیسیوں کو صرف اکتیس فیصد ووٹر پسند کرتے ہیں۔چوالیس فیصد ووٹرز ڈیموکریٹس ، چھتیس فیصد ریپبلیکنز اور پانچ فیصد دیگر امیدواروں کے حامی ہیں اور پندرہ فیصد آخری لمحوں میں فیصلہ کریں گے کہ کسے ووٹ دینا ہے۔ خواتین ووٹرز میں سے پینتالیس فیصد ڈیموکریٹس کی حامی پائی گئی ہیں۔ستر فیصد سیاہ فام اور اٹھارہ تا تیس برس کے اکیاون فیصد ووٹر عمومی طور پر ڈیموکریٹس کے حامی ہیں۔ گزشتہ اسی برس کی انتخابی اوسط نکالی جائے تو اٹھاون فیصد امریکی صدارتی انتخابات میں اور بیالیس فیصد وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ اگر آج کانگریس کے دونوں ایوان ریپبلیکنز کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں تو نہ صرف وفاقی اخراجات پر ڈیموکریٹس کا مکمل کنٹرول ہو گا بلکہ کانگریس چاہے تو صدر کا مواخذہ بھی کر سکے گی۔ریپبلیکنز کو آج کے انتخابات کے مضمرات کا اندازہ ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ مست ہیں کیونکہ یہ ان کی دوسری اور آخری صدارتی اننگز ہے۔ کون سا تیسری بار صدر بننا ہے۔چنانچہ وہ آخری وقت تک من مانی کی کوشش کریں گے بھلے اس کے نتائج خود ان کی جماعت کے لیے کتنے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہوں۔ نئی کانگریس کی حلف برداری تک ٹرمپ کے پاس ابھی ایران سے نمٹنے کے لیے کم ازکم دو ماہ ہیں۔ آج ریپبلیکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول بدستور برقرار رکھتے ہیں تو باقی دنیا کو بیس جنوری دو ہزار انتیس تک اپنی سیٹ بیلٹس کس کے رکھنا ہوں گی کیونکہ اگلے دو برس مسلسل ناہموار فضا میں پرواز درپیش ہو گی۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)