برصغیر ہندوستان میں مظلوم طبقات کی مزاحمتی تحریکوں کی ایک تاریخ ہے۔ کانگریس، جمعیت علماء ہند ، کمیونسٹ پارٹی اور ان کی ذیلی تنظیموں نے انگریز سرکار کے خلاف زبردست جدوجہد کی۔ کمیونسٹ پارٹی نے مزدوروں، کسانوں، طالب علموں اور دانشوروں کو منظم کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ تنظیمیں قائم کیں۔ انگریز دور میں سندھ کے ہاریوں کے حالات کار انتہائی خراب تھے۔ ایک طرف وڈیرے اور جاگیردار ہاریوں پر ظلم کرتے تھے اور حکومتی مشینری ان جاگیرداروں کی سرپرستی کرتی تھی۔ ہاریوں کے حقوق کے لیے ہاری کمیٹی قائم ہوئی، یہ کمیٹی کمیونسٹ پارٹی کا ماس فرنٹ بن گئی۔ بختاور شہید، سندھ کی پہلی شہید ہاری عورت ’’بختاور‘‘ ذات کی لاشاری تھی اور اس نے ضلع عمرکوٹ کے ایک چھوٹے سے شہر ’’ٹالھی‘‘ کے قریب ’’ہدی لاشاری‘‘ کے گاؤں میں جنم لیا تھا۔ مائی بختاور کی شہادت کا پس منظر اس طرح ہے کہ 1930 میں سائیں جی ایم سید، جیٹھمل پرسرم، جمشید نوسروانجی، پروفیسر گوکلی، کامریڈ عبدالقادر اور دیگر نے میرپورخاص میں سندھ ہاری کمیٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے کام سے متاثر ہو کر، کامریڈ حیدربخش جتوئی نے جب ڈپٹی کلکٹر کی ملازمت چھوڑی اور سندھ کے ہاریوں کے لیے جدوجہد شروع کی تو اس ہاری تحریک کا ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ ہاریوں کو بٹائی کا آدھا حصہ دیا جائے۔ آدھو آدھ بٹائی کے مطالبے کو منوانے کے لیے سب سے پہلے شہید بینظیرآباد میں تحریک چلی، جس میں ڈاکٹر ہاسارام، قاضی فیض محمد، کامریڈ محمد لاکی (سکرنڈ والے)، بالاچ خان بروہی، مولوی محمد معاذ اور دیگر نے بھرپور حصہ لیا اور اس تحریک کو زور پکڑایا، ہاریوں نے زمین داروں سے آدھی بٹائی کا حق مانگا اور نہ دینے کی صورت میں اپنی طاقت اور زور پر لینے کی کوشش کی۔ یہ تحریک پوری سندھ میں پھیل گئی۔ دیگر اضلاع کی طرح اس تحریک کا اثر ضلع تھرپارکر پر بھی پڑا۔ تھرپارکر میں اس تحریک میں جان محمد پلی، کامریڈ غلام محمد لغاری، پیر عبدالغفور جان سرہندی، محمد ابراہیم مومن کنری والے ، کامریڈ امولک اوڈ اور دیگر کئی ہاری ورکرز نے حصہ لیا۔ اس تحریک کو زور پکڑانے کے لیے کامریڈ حیدربخش جتوئی نے 20 جون 1947 کو جھڈی (موجودہ ضلع میرپورخاص) میں ہاری کانفرنس بلائی، جس میں تقریباً دس ہزار ہاریوں اور ورکروں نے حصہ لیا۔ سندھ کی سورما مائی بختاور کے گاؤں کے تمام مرد بھی اس کانفرنس میں شریک ہونے گئے۔ پیچھے اناج کی راہ پر ایک بوڑھے شخص پنیو لاشاری اور مائی بختاور کو سنبھال کے لیے چھوڑ کر گئے۔ کانفرنس کے آخری دن، 22 جون 1947 کو خبر آئی کہ ٹالھی شہر کے قریب، ہدی لاشاری کے گاؤں میں ایک غیر مقامی جاگیردار نے ایک عورت کو بندوقوں کے فائر کر کے شہید کر دیا۔ کامریڈ حیدربخش جتوئی ساتھیوں کے ساتھ، 23 جون کو صبح سویرے لاشاریوں کے گاؤں پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ دیگر کے علاوہ کامریڈ غلام محمد لغاری اور کامریڈ میر محمد ٹالپر بھی موجود تھے۔ انھوں نے اناج کی کری پر شہید بختاور لاشاری کی لاش جا کر دیکھی۔ وہاں انھیں خبر ملی کہ کری پر تقریباً تین ہزار من گندم تھی۔ گاؤں کے تمام مرد کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے اور غیر مقامی جاگیرداروں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر گندم اٹھانے کی کوشش کی، لیکن مائی بختاور اور ایک بوڑھے پنیو فقیر اور دیگر عورتوں نے انھیں ایسا کرنے سے روکا۔ مائی بختاور نے لوہے کی ٹیانگ اٹھا کر انھیں للکارا کہ ’’ہٹو پرے ہو جاؤ، اناج کا دانہ بھی اٹھانے نہیں دوں گی۔‘‘ مائی بختاور کے مزاحمتی انداز کو دیکھ کر زمین داروں کو غصہ آیا اور ایک ظالم چوہدری سعداللہ اور اس کے منیجر چوہدری خالد نے مائی بختاور پر بندوق کے سیدھے فائر کیے اور نتیجے کے طور پر مائی بختاور اناج کے ڈھیروں کا بچاؤ کرتے ہوئے شہید ہو گئی اور پیر مرد پنیو فقیر زخمی ہو گیا، جس کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی۔ کنری تھانے کا صوبیدار عنایت علی خان ابڑو اور ڈی ایس پی دیوان تلجارام پہنچ چکے تھے ، انھوں نے کامریڈ حیدربخش جتوئی کی موجودگی میں مقدمہ لکھا۔ کچھ ورکروں نے کامریڈ حیدربخش جتوئی کے حکم پر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ساماری لے گئے، جہاں زیادہ وقت گزر جانے کی وجہ سے مائی بختاور کو آخرکار دفن کیا گیا۔ ان کی قبر ساماری کے ایک مقام میں واقع ہے۔ مقدمہ تھرپارکر سیشن کورٹ میرپورخاص میں چلا۔ مقدمہ کی پیروی سندھ ہاری کمیٹی کی طرف سے وکیل دیوان انبارام نے کی۔ سرکاری وکیل خان بہادر مرزا سکندر بیگ تھا، جسے اس وقت کے سندھ کے وزیر داخلہ، قاضی فضل اللہ خاص حیدرآباد نے بلایا تھا، اس نے بھی فریادی فریق (مائی بختاور والے فریق) کی مدد کی، جب کہ جوابداروں کی پیروی دیوان ڈیئل مل اور لاہور سے بلائے گئے ایک بیرسٹر نے کی۔ اس وقت سیشن جج شنکر سنگھ آڈوانی تھا۔ اس صاحب نے چوہدری خالد کو 20 سال قید کی سزا دی، جب کہ دیگر مجرموں کو پانچ سے دس سال تک سزائیں دیں۔ باقی تو اپیلوں میں آزاد ہو گئے ، لیکن چوہدری سعداللہ نے 25 سال قید کاٹی۔ اس طرح سندھ کی ہاری جدوجہد اور شہید بختاور نے سندھ کے غریب عوام کو سبق دیا کہ اپنے حق کے لیے جان دی جا سکتی ہے ، لیکن اپنا حق نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ہاری تحریک کے ایک کارکن تاج ولی نے لکھا ہے کہ’’ مائی بختاور شہید کی قربانی سندھ کی تاریخ میں صدیوں تک لازوال رہے گی۔‘‘ سندھ میں ہاری کمیٹی کی جدوجہد سے سیاسی حالات میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ہاری کمیٹی کے رہنماؤں نے آزادی کے بعد ہاریوں کے حقوق، بیراج کی زمینوں کو غیر مقامی افراد کو الاٹ کرنے اور ون یونٹ کے خلاف تاریخی جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں زرعی اصلاحات نافذ کیں مگر جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں زرعی اصلاحات کو وفاقی شریعت کورٹ نے غیر اسلامی قرار دیا۔ ہاریوں کو منظم کرنے والے کامریڈ تاج مری نے پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے دور کا یوں جائزہ لیا ہے۔ سندھ میں آدھی بٹائی اور ٹیننسی ایکٹ کے کسان کا زمین پر حق ،بیدخلی کا خاتمہ اور چھیڑ بیگار کو غیر قانونی قرار دے کر کسان جدید غلامی سے آزادی دلانے جھان کامریڈ حیدر بخش جتوئی کامریڈ رئیس بروھی ،قاضی فیض محمد،کامریڈ غلام محمد لغاری کا کردار ہے لیکن مائی بختاور شہید کے خون نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2013 میں عوامی حکومت کا نعرہ لگانے والی پیپلز پارٹی حکومت میں مائی بختاور شہید کے خون سے حاصل ہونے والی چھیڑ بیگار کو غیر قانونی قرار دینے والی سندھ ٹیننسی ایکٹ کی شق ختم کرکے کسانوں کو ایک مرتبہ پھر غلام بنا دیا ہے جو کہ 1973کے آئین میں شہری آزادی اور 1992 کے بانڈیڈ ایکٹ سے متصادم ہے ۔اسی طرح ایک اور شق میں ترمیم کر کے مشنری کے ذریعے کاشتکاری کا خرچ بھی کسان پر ڈال دیا ہے جو اس سے پہلے آدھا کسان بھرتا تھا اور آدھا زمیندار ادا کرتا تھا۔ سندھ امور کے ماہر سینئر صحافی سہیل سانگی نے ہاری تحریک کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے۔سندھ ہاری کمیٹی 1930 کے عشرے میں اپنے قیام سے لے کر کسانوں کے حقوق اور اس ضمن میں قانونی و زمینی اصلاحات لانے کے لیے جدوجہد کرتی رہی۔ پہلے عشرے میں اس کی جدوجہد ہاریوں کی بے دخلی، زمینداروں کے معاشی مظالم، زبردستی بلا معاوضہ کام لینے اور زمینی اصلاحات کے لیے رہی۔ اس کا مطالبہ تھا کہ زمین کی ملکیت کی از سرنو تقسیم ہو، بڑی بڑی زمینداریاں ختم کی جائیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت سے پاکستان آنے والوں میں دعویٰ کے طور پر زرعی زمین تقسیم کی مخالفت کی۔ اسی کے ساتھ فصل کی پیداوار زمیندار اور کسان کے درمیان مساوی طور پر نصف تقسیم کے لیے قانون سازی کی لڑائی لڑی۔ سندھ بھر کے ہاریوں نے سندھ اسمبلی کا گھیرائو کیا اور پہلی مرتبہ سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور کرایا جس میں کسان کی حیثیت بطور پیداوار کے عمل میں ایک فریق کے طور پر تسلیم کی۔ پچاس کے عشرے میں مساوات کے نام پر ون یونٹ مسلط کر دیا گیا جس میں سندھ کی زرعی زمینیں اور دیگر آمدنی کے ذرائع انعام اور نیلام کے نام پر باہر کے لوگوں کو ملنے لگے۔ ہاری کمیٹی نے اس کے خلاف تحریک چلائی۔ یہ تحریک ایک طرف سڑکوں پر تھی تو دوسری طرف کامریڈ حیدربخش جتوئی عدالتوں میں قانونی لڑائی لڑ رہے تھے۔ چالیس کے عشرے سے لے کر ساٹھ کے عشرے تک ہاری کمیٹی واحد تنظیم تھی جس کی ہر ضلع میں شاخیں تھیں اور جہاں روزانہ کام ہوتا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کی چھتری تلے چلنے والی اس تحریک میں صرف کمیونسٹ نہیں تھے ، ہاری کارکن، قوم پرست اور یہاں تک مولانا عبدالحق ربانی، مولوی عزیزاللہ جروار اور شیخ رمضان جیسے علماء بھی شامل تھے جو دیوبند سے فارغ التحصیل تھے جو کہ سرخے مولوی کہلاتے تھے۔ ساٹھ کے عشرے کے آخرمیں ملک میں بڑی سیاسی الٹ پھیر ہوئی، کامریڈ حیدربخش جتوئی انتقال کر گئے۔ بھٹو نے سوشل ازم کا نعرہ لگا کر ہاری کمیٹی اور کمیونسٹوں کا بیانیہ چھین لیا، جس کے بعد ہاری کمیٹی زوال پذیر ہوئی۔ اب تو زراعت کے مشینی ہونے اور نقد فصلوں کی پیداوار کے دور میں خود ہاری کی حیثیت بھی تبدیل ہو گئی ہے لیکن زمین کی تقسیم اور کسان کو جائز حقوق ملنے کا سوال اب بھی اپنی جگہ پر شدت سے موجود ہے۔ حکومت سندھ نے ٹیننسی ایکٹ کو ختم کرکے پیپلز پارٹی کے اثاثی دستاویز کو فراموش کردیا ہے۔ سندھ کے باشعور لوگوں کو اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔