ایکسپریس اردو
پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی اور تشدد کا خطرناک منصوبہ تیار کر لیا، خواجہ آصف
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، جسے اس کی صوبائی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے، نے صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص اور پاکستان بالعموم میں اپنے آنے والے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی اور تشدد پھیلانے کا ایک انتہائی خطرناک اور مذموم منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
خواجہ آصف نے ایکس پر بیان میں کہا کہ اس مذموم منصوبے کو جاننے سے پہلے 15 جولائی 2024 کو پیش آنے والے بنوں واقعہ کی طرز کو سمجھنا بہت ضروری ہے، جس میں ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ نے پہلے بنوں کینٹ پر خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 8 فوجی جوان شہید ہوئے، جبکہ حملے کے چار روز بعد 19 جولائی 2024 کو بنوں میں انتشاری طرز کا ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں سیاسی و قوم پرست شرپسند عناصر، جن میں تحریک انصاف اور پی ٹی ایم سے منسلک گروہ بھی شامل ہو گئے ۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان پر تشدد مظاہرین نے کینٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے، ان شر پسند عناصر نے جان بوجھ کر ہجوم کا رخ براہِ راست کینٹ کے سپلائی ڈپو کی ٹوٹی ہوئی دیوار کا فائدہ اٹھا کر لوٹ مار شروع کی اور جب سیکورٹی فورسز مزاحمت کی تو ہجوم کی طرف فائرنگ کا آغاز کیا گی۔
انہوں نے کہا مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس دفعہ بھی 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ جو کہ مشکوک ترین طور پر اب صرف خیبر پختونخوا میں ہی گھمایا جائے گا، تحریک انصاف صوبائی حکومت نے اپنے فتنہ الخوارج ساتھیوں کی مدد سے پارٹی کے شر پسند جھتوں کو پہلے سے بنوں سٹائل حملے کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور تیاری کر رکھی ہے تاکہ مظاہرین اور جلسے جلوس کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات یا پوسٹوں کے آس پاس افراتفری پھیلا کر بد امنی اور انتشار پھیلایا جا سکے۔
خواجہ آصف نے بیان میں کہا کہ لانگ مارچ کے اس شر پسند منصوبے کی خبر فوج اور متعلقہ انٹیلیجینس اداروں کو وقت سے پہلے ہو گئی، اِسی لیے 2 اکتوبر کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے علامیے میں انتہائی سخت اور واضح انداز میں بتا دیا گیا کہ “(کوٹ) کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت پُرتشدد انتشار، ریاستی اداروں پر حملے، یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق بلاامتیاز اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا-
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واضح پیغام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اورلانگ مارچ کے منتظمین کے لئے وقت سے پہلے کلیئر کٹ وارننگ ہے کہ لانگ مارچ کے کسی بھی مرحلے میں کسی بھی بہانے سے اگر 9 مئی جیسی دہشت گردی کرنے کی کوئی کوشش بھی کی گئی تو اس دفعہ ایسی ہر کوشش کو مکمل طور پر کچل دیا جائے گا اور ایسا کرنے والوں کو دہشت گردوں کی طرح ٹھکانے لگایا جائے گا تاکہ ریاست پر دہشت گردوں کی مدد سے پرتشدد حملوں کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واضح ھو جانا چاہیے کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں واضح فرق ہے۔ سیاسی جدوجہد کے لیے پاکستان اور ساری دنیا میں مثالیں اور روایات موجود ہیں۔ مگر جب سیاسی جدوجہد کے لبادہ میں بھارت سپانسرڈ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت بپا کی جائے گی تو یہ ملک کی سالمیت پہ حملہ تصور کیا جائے گا اور پھر دفاع کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.