ایکسپریس اردو
خرچے ساڈے تے نخرے اے آئی دے
نوبیل انعام یافتہ کمپیوٹنگ سائنسداں اور کوگنیٹو نفسیات کے ماہر جیفری ہنٹن کو ’’ فادر آف اے آئی ‘‘ کہا جاتا ہے۔وہ اس وقت ٹورنٹو یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریٹس ہیں۔انیس سو ستر کی دہائی میں انھوں نے مصنوعی دماغ بنانے کے نظریے پر بنیادی کام کیا۔تاہم جس کام پر انھیں نوبیل انعام ملا رفتہ رفتہ اسی کام کے بارے میں ان پر منکشف ہوا کہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ہاتھ سے نکل رہی ہے اور غلط ہاتھوں میں پہنچ سکتی ہے۔
دو ہزار تئیس میں جیفری ہنٹن نے گوگل میں ایک سینیر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاکہ اپنے خدشات کھل کے بتا سکیں۔انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ایک برس کے اندر اے آئی کے سبب ایک بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔ممکن ہے کہ بجلی کا نظام درہم برہم ہو جائے یا ہفتے بھر کے لیے عالمی مالیاتی مارکیٹ بیٹھ جائے۔تب ہو سکتا ہے کہ دنیا کو کچھ ہوش آ جائے۔
جیفری نے مزید کہا کہ لگ بھگ نصف صدی تک اے آئی کے دماغ پر کام کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم انسان اے آئی کے بغیر بہت بہتر تھے۔ایسا نہیں کہ اے آئی سے بہت اچھے اور مثبت کام نہیں لیے جا سکتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی دوڑ اور بے تحاشا دولت کمانے کی ہوس ان تمام ’’ چوہدریوں ‘‘ کو اندھا کر رہی ہے جن کے ہاتھ میں اس وقت اے آئی کی باگیں ہے۔حالانکہ انھیں بھی اچھے سے معلوم ہے کہ اگر رفتار کا یہی عالم رہا تو اے آئی کا گھوڑا جلد ہی انھیں بھی اپنے سموں تلے روند ڈالے گا۔
البتہ اے آئی سے وابستہ کئی سرکردہ کمپنی مالکان جیفری ہنٹن کے خیالات پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔مثلاً اے آئی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے والی کمپنیوں کے لیے خصوصی چپ تیار کرنے والی سب سے بڑی امریکی کمپنی نویڈا کے سربراہ جینسن ہوانگ کا کہنا ہے کہ وہ جیفری ہنٹن کے کام کا بہت احترام کرتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ ایک سائنسداں جو کچھ بھی کہے وہ بھی سائنسی سوچ قرار پائے۔
اس نوعیت کے اعتراضات کے جواب میں جیفری ہنٹن کہتے ہیں کہ جب میں چالیس پینتالیس برس پہلے ایسے مشینی دماغ کے امکان کو عملی شکل دینے پر ابتدائی کام کر رہا تھا جو انسانی دماغ کی طرح کام کرے تب بھی بہت سے ماہرین مجھے پاگل سمجھتے تھے۔ آج وہی لوگ اس پاگل کے کام کو اپنے فائدے کے لیے کئی گنا آگے بڑھا چکے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہا ہے اے آئی کی بس لازماً کریش کر جائے گی۔مگر حالیہ چند مہینوں میں اے آئی ایجنٹوں کے بے قابو ہونے کے جو چند واقعات سامنے آئے ہیں اور جن کا اعتراف اے آئی پروگرامز بنانے والی کمپنیوں نے بھی کیا ہے۔ایسے چھوٹے موٹے حادثات سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر کسی بس کے بارے میں آپ کو سو کے بجائے اسی فیصد یقین ہو کہ یہ کریش نہیں کرے گی تو کیا پھر بھی آپ اپنے بچوں کو اس بس میں سوار کرانا پسند کریں گے ؟
بقول جیفری ہنٹن صدر ٹرمپ ، ایلون مسک ، سام الٹمان اور مارک زکربرگ جیسے لوگ تو اس گھوڑے کو لگام دینے سے رہے۔اب یہ دیگر عالمی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور کوئی ایسا بین الاقوامی ضابطہ مرتب کرنے پر رضامند ہو جائیں کہ جس میں اے آئی کے لیے ایک ریڈ لائن طے ہو۔کیونکہ ایک بار یہ ریڈ لائن اے آئی نے عبور کر لی تو پوری انسانیت اے آئی ایجنٹوں کے لیے گرین لائن بن جائے گی۔
جیفری ہنٹن فن لینڈ ، سنگاپور ، جرمنی ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت تینتیس ممالک کی اس مشترکہ تجویز سے متفق ہیں کہ تمام اے آئی ماڈلز کی حتمی آزمائش کو کسی غیر جانبدار فورم کے سامنے لازم قرار دیا جا سکے تاکہ ان ایجنٹوں کی صلاحیتوں اور حدود و قیود کو ایک مشترکہ عالمی معیار کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی انھیں ریلیز کیا جا سکے۔
برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برمن نے بھی کہا ہے کہ وہ صنعتی ممالک کے کلب جی ٹوینٹی کے گردشی سربراہ کے طور پر اے آئی کو عالمی سطح پر اسٹینڈرڈائزیشن کا پابند بنانے کی کوششوں میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ جہاں ہم اے آئی ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح و ترقی کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے قابل رہیں وہی ہمیں اس سے جنم لینے والے ممکنہ خطرات کا بھی پوری طرح ادراک رہے۔
فیصلہ سازوں کو بھلے احساس ہو نہ ہو مگر عام آدمی تک یہ بات کسی نہ کسی طرح پہنچ گئی ہے کہ اے آئی تو جانے کب اس کے لیے فایدہ مند ہو گی یا نہیں ہو گی مگر ڈیٹا سینٹرز اس کے حصے کا پانی اور بجلی ضرور ابھی سے کھا رہے ہیں۔یعنی وسائل ہمارے اور منافع چند کمپنیوں کی جیب میں۔امریکا جہاں دنیا کے ستر فیصد ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں اور درجنوں اگلے چند برس کے اندر ڈرائنگ بورڈ سے اتر کے عملی شکل اختیار کرنے والے ہیں۔ووٹر انھیں ایک تازہ زحمت سمجھ رہے ہیں۔
حالیہ وسط مدتی انتخاب میں ڈیٹا سینٹرز کا پھیلاؤ سنجیدہ انتخابی مباحثے کا حصہ بن گیا۔سوائے شمالی ڈکوٹا کے ہر اس ریاست میں جہاں ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں چھپن فیصد ووٹروں نے انھیں مسترد کر دیا۔مثلاً ریاست اوہائیو میں اوپن اے آئی کی جانب سے پانچ سو بلین ڈالر کے بجٹ سے آٹھ گیگا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کا حامل دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر بنانے کا منصوبہ زیرِ تعمیر ہے ۔اس منصوبے کو وفاقی مالیاتی حمائیت بھی حاصل ہے۔
مگر ووٹروں نے مزاحمت کی اور ڈیموکریٹس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔اسی طرح روائیتی ریپبلیکن ریاست ٹیکساس جو دو ہزار تیس تک سب سے بڑی عالمی ڈیٹا سینٹر مارکیٹ بننے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ وہاں یہ خواب دکھانے والے ریپبلیکن امیدواروں کی چھٹی ہو گئی۔کرپٹو کے کاروباریوں ، آن لائن جوئے کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں اور اے آئی کمپنیوں نے ریپبلیکنز کو جتانے کے لیے ساڑھے تین سو ملین ڈالر جھونک دیے۔اکیلے ایلون مسک نے پونے پانچ سو ملین ڈالر کا سیاسی جوا کھیلا۔مگر نتائج دیکھ کر مسک کو ٹویٹ کرنا پڑا کہ اس وقت خلا میں ڈیٹا سینٹرز بنانے کا خواب زیادہ پرکشش ہے۔
انتخابی نتائج مکمل ہونے کے اگلے ہی دن امریکی شئیر بازار میں دو ٹریلین ڈالرز کی ویلیو رکھنے والے حصص اڑ گئے۔ان میں سے زیادہ تر حصص اے آئی اور ٹیک کمپنیوں کے ہیں۔اور کیا ثبوت چاہیے عوام کا ذہن سمجھنے کے لیے ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.