منگھوپیر گرین سٹی میں 7 اور 8 ستمبر کی درمیان شب گھر کے اندر گھس کر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 16 سالہ روشم کے قاتلوں کا پولیس تاحال سراغ نہیں لگا سکی، قاتلوں کی گرفتاری کیلیے تھانے کے سامنے دھرنا نویں روز بھی جاری رہا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مقتول نوجوان کے دو چاچا بختیار احمد اور یار حسین کا کہنا ہے کہ میرا پہلے روز سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے لخت جگر کے قاتل جب تک گرفتار نہیں ہوتے احتجاجی دھرنا جاری رہے گا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگ جائے لیکن دھرنا قاتلوں کی گرفتاری پر ہی ختم ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام سے تاحال رابطے میں ہیں، اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قاتل جلد گرفتار کرلیے جائیں گے، کراچی کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں جب قاتل گرفتار ہوں گے تو منگھوپیر تھانہ کے باہر ہی روشم خان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور مقامی قبرستان میں تدفین ہوگی۔ واضح رہے کہ ہفتے کی شب کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ مقتول کے نوجوان روشم کے والد روئیداد خان سے ملاقات کر کے اظہار تعزیت کیا اور انھیں روشم قتل کیس سے متعلق تفتیش کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا تھا۔ مظاہرین کی جانب سے روشم کے قاتلوں کی گرفتاری تک منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کے عزم کا اظہار گیا جو تاحال نویں روز بھی جاری رہا۔