ایکسپریس اردو
سیاسی مذاکرات ہی واحد آپشن
ملکی سیاست کو جو اس وقت بڑے بڑے چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لیے حکومت سمیت حزب اختلاف کی سطح پر ٹکراؤ اور محاذ آرائی کے مقابلے میں قومی سطح پر مفاہمت کی سیاست درکار ہے۔مفاہمت کی سیاست تین بنیادی اصولوں پر ہی قائم ہوسکتی ہے۔
اول حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے وجود کو قبول کریں اور اختلافات کو سیاسی دشمنی کا رنگ دینے سے گریز کریں۔دوئم، مذاکرات کے لیے دونوں اطراف سے سیاسی سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو سیاسی تلخیوں اور ذاتی الزامات کے زمرے میں آتے ہوں۔سوئم، مذاکرات کی میز کھلے دل سے سجائی جائے اور اس میں کسی پر کسی قسم کی سیاسی ڈکٹیشن یا ایجنڈا مسلط نہ کیا جائے ۔اس نقطہ سے گریز کیا جائے کہ ہم نے کسی فریق کو مذاکرات کی میز پر شکست دینا ہے اور سیاسی برتری حاصل کرنا ہے کیونکہ جمہوریت میں مذاکرات کی کامیابی اصولی طور پر کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
حکومت عملی طور پر اختیارات رکھتی ہے تو اس کی ذمے داری زیادہ ہوتی ہے کہ حکومتی نظم نسق کو کامیابی سے چلانے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام ہو اور وہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بہتر تعلقات ہوں۔لیکن اگر اس کے مقابلے میں قومی سیاست میں سیاسی محاذ آرائی اور ٹکراؤ کی سیاست ہوگی تو اس کا نتیجہ حکومتی نظام کی کمزوری کی صورت میں ہی سامنے آتا ہے۔لیکن اگر ہم حزب اختلاف پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ملک میں سیاسی انتشار کو پیدا کر رہی ہے خود حکومت کا اپنا طرز عمل بھی بدلنا چاہیے۔ جب آپ سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی کوشش کریں گے تو پھر اس کے نتیجے میں سخت ردعمل سامنے آتا ہے اور وہ بھی ٹکراؤ کا حصہ بن جاتی ہے۔
اس وقت ایسے ہی لگتا ہے کہ جیسے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بداعتمادی اور ڈیڈ لاک کی صورت ہے۔حزب اختلاف بار بار اس نقطہ کو دہراتی ہے کہ مذاکرات کے تناظر میں ہمیں دینے کے لیے حکومت کے پاس کوئی اختیارنہیں۔ جب تک اختیار رکھنے والی قوتوں کی جانب سے کوئی بات آگے نہیں بڑھے گی،تناؤ برقرار رہے گا۔ یہ بات اس حد تک درست ہے کہ ہم اس وقت جس ہائبرڈ نظام کا بڑا حصہ ہیں اس میں با اختیار قوتوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔لیکن حزب اختلاف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر مذاکرات کا کوئی براہ راست راستہ نکلے گا تو وہ حکومتی پلیٹ فارم سے ہی نکلے گا۔
حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اگر مذاکرات کے عمل کو بطور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گی اورحزب اختلافات کو تاخیری حربوں میں لٹکاتی رہے گی تو اس سے اس کو خود حکومتی نظام کو چلانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ حزب اختلاف کو بھی اپنے روئیے پر نظرثانی کرتے ہوئے لچک پیدا کرنی چاہیے۔ کئی عالمی اداروں کی رپورٹس ہمیں یہ باور کرواچکی ہیں کہ اگر ہمارے ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو ملک میں معاشی استحکام بھی ممکن نہیں ہوسکتا۔لیکن اس کے باوجود ہماری سیاسی ترجیحات میں سیاسی استحکام کو پیدا کرنا کم اور عدم استحکام کو پیدا کرنا زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد سیاسی مفاہمت کے امکانات اور زیادہ محدود ہوگئے ہیں جو مزید ٹکراؤ کی سیاست کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔اگر گورنر راج اور ایمرجنسی لمبی مدت تک چلتی ہے تو پھر یہ حکومت اور اپوزیشن کو مزید دور کردے گی۔ اگر مولانا فضل الرحمن اور پی ٹی آئی حکومت کی مخالفت میں ایک ٹرک پر سوار ہوتے ہیں تو حکومت کو ایک سخت اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت اس وقت جو ایجنڈا رکھتی ہے اس میں بانی پی ٹی آئی تک ان کی جماعت، قانونی وکلا،نجی ڈاکٹرز،ان کی فیملی تک رسائی اور عدالتوں کی سطح پر پی ٹی آئی راہنماؤں سمیت بانی پی ٹی آئی کے فوری مقدمات شامل ہیں۔اب یہ ایسے نکات ہیں جس پر کسی بھی سطح پر ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی کا قانونی اور سیاسی حق ہے اوریہ مطالبات کسی بھی طور غیر قانونی نہیں ہیں۔ اسی طرح بانی پی ٹی آئی کو قانونی ریلیف سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملا اس پر بھی حکومت نے عملدرآمد نہ کرکے کوئی اچھی روایت قائم نہیں کی اور بلاوجہ حکومت کے بارے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ وہ پی ٹی آئی کو کسی بھی سطح پر ریلیف دینے کے حق میں نہیں۔اب اگر حکومت کے اس طرز عمل کی بنیاد پر مذاکرات کی میز سجتی ہے تونتیجہ اس کا بھی ماضی سے مختلف نہیں ہوگا۔
اس لیے حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں کو ایک دوسرے کے لیے دل کشادہ کرنا ہوگا اور یہ محض ان کی ضرورت نہیں بلکہ ملک کے مفاد میں بھی ہے۔ایک ایسے موقع پر جب ملک میں سیاسی تقسیم گہری ہو وہاں اس تقسیم میں مزید دوریاں پیدا کرنا اور اس عمل میں الجھنا کسی بھی صورت میں ہمارے حق میں نہیں ہوگا۔ ہمیں ان چھوٹے مسائل کی صورت میں الجھنے کی بجائے عام آدمی کے براہ راست مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کا حصہ بننا ہوگا۔ سیاسی مسائل یا سیاسی استحکام ،معاشی بدحالی،دہشت گردی ، گورننس کا بحران، ادارہ جاتی کمزوریاں، عام آدمی کی زندگی میں آنے والی مشکلات، کرپشن اور اور قرضوں کے بوجھ سے نکلنے جیسے مسائل ہماری قومی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونے چاہیے۔ لیکن ہم قومی سیاست میں شخصی یا جماعتی ٹکراؤ کا حصہ بن کر خود اپنے لیے اور قوم کے لیے بھی مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
یہ جو ہمارے ترقی کے تناظر میں قومی اعداد وشمار دیکھنے کو مل رہے اور جس کی جھلک ہمیں روزانہ کی بنیادوں پر عالمی درجہ بندی یا مختلف رپورٹس کی صورت میں دیکھنے کو مل رہی ہیں وہ پریشان کن ہیں۔غربت،خوراک کی کمی، تعلیم اور صحت سے جڑے معاملات،ماحولیاتی تبدیلیاں، صاف پانی، روزگار کا عدم تحفظ،امیری اور غریبی میں بڑھتی ہوئی خلیج، حکمرانی پر لوگوں کے اعتماد میں کمی،آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن جیسے مسائل پر اچھی پالیسیوں اور گورننس کے فقدان اور سیاسی جماعتوں کی یا حکمران طبقات کی عدم ترجیحات ہمارے قومی بڑے مسائل ہیں۔ہم ان اہم مسائل کے حل پر توجہ دینے کی بجائے غیر اہم مسائل کو اپنی بڑی ترجیحات کا حصہ بنا چکے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ اگر ہماری سیاست اور جمہوریت سے افراد اور فیصلہ ساز اسی طرح کی بے کار طرز کی روائتی سیاست کا شکار رہے یا ان کی سیاست ملک اور عوام کے مقابلے میں ذاتی مفادات تک محدود ہوگی تو ہم اس قومی سیاسی سطح کے بحران سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔کیونکہ جب تک ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں تو پھرہم خود کو اصلاح کے طور پر کیسے آگے بڑھا سکیں گے۔ہماری مجموعی سیاست کا نظام اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا تقاضہ کرتا ہے کہ پرانی ڈگر پر چل کر کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا۔
اس لیے ایک طرف فوری طور پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فوری نوعیت پر مبنی اہم مسائل کا حل تو دوسری طرف داخلی سطح کے بڑے بڑے اہم مسائل پر سوچ بچار اور مل بیٹھ کر اتفاق رائے کی بنیاد پر مسائل کے حل کی تلاش ہی ہماری حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔مصنوعی طریقوں سے مذاکرات کی میز سے کچھ نہیں نکل سکے گا۔جب ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم مسائل کی دلدل میں ہیں اور ہمارے حالات غیر معمولی حد تک بگاڑ کا شکار ہیں تو پھر اس سے باہر نکلنے کے لیے حکومت اورسیاسی قیادتوں کی سطح پر بھی غیر معمولی اقدامات درکار ہیں۔لیکن اس کے لیے ضروری ہیں کہ یہ سب کردار اپنے اپنے محدود کردار سے باہر نکلیں اور ان قومی مسائل کو ایک بڑے فریم ورک میں دیکھیں تو اصلاح کی ابتدا ہوسکتی ہے۔وگرنہ وقت گزرتا جائے گا ہم ایسے ہی اپنے مسائل کا سیاسی ماتم کرتے رہیں گے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.