ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران میں چار ملکی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیش کی تھی، جس پر ایران نے آمادگی ظاہر کی۔ ان کے مطابق ایران آج تہران میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کر رہا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، لبنان اور ایران کے خلاف جنگ سمیت اہم علاقائی معاملات پر بات چیت ہوگی۔ ایرانی ترجمان کے مطابق ایران کسی بھی ممکنہ صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور پاکستان ان رابطوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ بقائی نے امریکا کے مطالبات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایسے مطالبات کر رہا ہے جنہیں تہران یک طرفہ سمجھتا ہے۔ ان کے بقول ایران امریکا کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور جاری جنگ سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔ اسرائیل میں انتخابات کے حوالے سے سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ انتخابی نتائج ایران پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور تہران کے لیے ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔