اٹلانٹا: ڈیموکریٹ امیدوار کیشا لانس باٹمز نے امریکی ریاست جارجیا کے گورنر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی۔ وہ امریکا کی کسی بھی ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر ہوں گی، جبکہ جارجیا کی پہلی خاتون گورنر بننے کا اعزاز بھی حاصل کریں گی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سابق میئر اٹلانٹا کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن امیدوار اور کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دی۔ امریکی میڈیا کے انتخابی تخمینوں کے مطابق ان کی کامیابی یقینی ہوگئی ہے۔ 56 سالہ باٹمز ری پبلکن گورنر برائن کیمپ کی جگہ عہدہ سنبھالیں گی، جو دو مسلسل مدتیں مکمل کرنے کے بعد سبکدوش ہورہے ہیں۔ باٹمز اس سے قبل اٹلانٹا کی میئر رہ چکی ہیں، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کی سینئر مشیر اور وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے عوامی رابطہ کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ کیشا لانس باٹمز کی کامیابی کے ساتھ جارجیا میں گورنر کے عہدے پر ری پبلکن جماعت کا دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط کنٹرول ختم ہوگیا ہے۔ جارجیا امریکا کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ ری پبلکن امیدوار رک جیکسن ارب پتی کاروباری شخصیت اور طبی عملے کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی جیکسن ہیلتھ کیئر کے بانی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں ٹیکسوں میں کمی، عوامی تحفظ اور حکومتی ضوابط محدود کرنے پر زور دیا تھا۔ اسی انتخابی رات فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز بھی گورنر منتخب ہوگئے۔ وہ امریکا کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام ری پبلکن گورنر ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی علاقے یو ایس ورجن آئی لینڈز میں اسٹیسی پلاسکٹ گورنر منتخب ہوئیں۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ بھی کسی امریکی دائرہ اختیار کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بن گئی ہیں۔ جارجیا میں باٹمز کی کامیابی کو امریکی سیاست میں سیاہ فام خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔