ایک خاتون نے کراچی کی متوسط طبقے کی ایک رہائشی اسکیم میں چند سال قبل ایک فلیٹ خریدا تھا۔ اس رہائشی فلیٹ کے نیچے دو چھوٹی دکانیں ہیں۔ اس فلیٹ کے کرائے سے خاتون کا کچھ خرچہ چلتا تھا۔ اس فلیٹ کے اوپری حصہ میں ایک کرایہ دار تھا، وہ خالی کرکے چلا گیا۔ خاتون کو پتہ چلا کہ کسی وکیل نے فلیٹ پر قبضہ کرلیا ہے، وہ اس فلیٹ کی ملکیت کا دعویدار ہوگیا ہے۔ خاتون کے پاس لیز کے کاغذات موجود ہیں۔ اب یہ خاندان اپنی جائیداد کو واپس لینے کے لیے قانونی جنگ میں مصروف ہے۔ کراچی میں یہ صرف پہلا خاندان نہیں بلکہ سیکڑوں خاندان ناجائز قبضوں کا شکار ہیں۔کچھ وکلاء بھی قبضوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل جو جوڈیشل کمیشن کے رکن رہے اور طویل عرصے تک قانون کی تعلیم اور وکلاء کی رجسٹریشن کے معاملات دیکھتے رہے نے ایک ملاقات میں کہا کہ کراچی میں مقدمات زیادہ ملنے کے امکانات ہوتے ہیں، یوں پورے ملک کے نوجوان وکیل کراچی آتے ہیں۔ا ن میں سے بعض نے جائیدار پر قبضے اور شہریوں کو بلیک میلنگ کو کاروبار بنالیا ہے۔ یہ افراد کسی مکان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو مالک اور اس کے اہل خانہ کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کراتے ہیں۔پولیس پردباؤ ڈالتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ تھانے کا گھیراؤ تک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے سندھ میں اس سال صرف وکلاء کی 6ہزار ایف آئی آر درج ہوئی ہیں اور بہت سے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ متاثرہ خاتون ،ان کے شوہر اور بیٹے کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔مگر جب عدالت میں مقدمہ پیش ہوا تو مدعی غیر حاضر رہا۔ یہ ایف آئی آر تو ختم ہوگئی مگر اس خاندان کو جو مالیاتی نقصان ہوا اور ذہنی اذیت پہنچی قانون میں اس کا مداوا ممکن نہیں۔ اس قسم کے دھندے میں ملوث اکثر وکلاء کی  ڈگریاں جعلی ہیں۔ خیرپور کی شاہ عبدالطیف یونیورسٹی نے اس صورتحال کی گہرائی کو محسوس کی اور اس یونیورسٹی سے جاری ہونے والی قانون کی ڈگریوں کی چھان بین کے لیے ایک اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے متعلقہ امیدواروں کے امتحان کا ریکارڈ، حاضری شیٹ، فیس کا ریکارڈ اور دیگر اسناد کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایک ہزار 184 امیدواروں کا ریکارڈ جعلی قرار دیا۔ صرف 64 مستند امیدواروں کی ڈگریوں کی تصدیق کی گئی۔ یہ کمیٹی وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خٹک کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے ڈین اور سینئر پروفیسر اس کمیٹی کے اراکین میں شامل تھے۔ اس فیصلے کے نوٹیفکیشن کی نقول ہائر ایجوکیشن کمیشن اور سندھ بار کونسل کو ارسال کردی گئیں، وائس چانسلر نے منسوخ شدہ ڈگری کے حامل افراد کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کردی۔ اس سے قبل کراچی میں ایک یونیورسٹی کے ایل ایل بی کے 150 امیدواروں کو اضافی نمبر دینے کا اسکینڈل اخبارات کی زینت بنا تھا ۔شاہ عبدالطیف یونیورسٹی نے تو جرات مندانہ فیصلہ کرلیا اب سندھ بار کونسل اور صوبہ کی بار ایسوسی ایشنوں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کا ایک تاریخی ماضی ہے۔ گزشتہ سال بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات محض ووٹر فہرستوں میں متنازع افراد کے ناموں کی شمولیت کی بناء پر کئی ماہ ملتوی رہے۔ نئے سرے سے بار کے اراکین کی فہرستیں تیار ہوئیں۔ ممبران کا بائیومیٹرک ہوا، ایک مستند فہرست کا اجراء ممکن ہوا۔ پاکستان میں بار ایسوسی ایشن نے ہر دور میں آمرانہ حکومتوں اور سیاہ قوانین کے خلاف تاریخی جدوجہد کی ہے اور اس جدوجہد کے ثمرات بھی ملے ہیں مگر 2007ء میں جب سابق صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کو معزول کیا تو وکلاء نے چیف جسٹس کی بحالی کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ بیرسٹر اعتزاز احسن، حامد علی خان، منیر اے ملک، رشید رضوی، عاصمہ جہانگیر اور علی احمد کرد اس تحریک کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ یہ تحریک ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ جسٹس افتخار چوہدری اور وکلاء رہنما ملک کے تمام شہروں میں گئے، یوں نچلی سطح تک وکیلوں میں موبالائزیشن کا عمل ہوا اور وکیل ایک بااثر گروپ کے طور پر سامنے آئے۔ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک کا نعرہ تو آزاد عدلیہ کا تھا مگر اس کی کوئی نظریاتی بنیاد نہیں تھی۔چیف جسٹس ریٹائرڈ افتخار چوہدری نے اپنی بحالی کے بعد پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی انتظامیہ کو مفلوج کیے رکھا اور منتخب وزیر اعظم کو توہینِ عدالت کی سزا دے کر گھر بھیج دیا۔ ایک اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوسرے وزیر اعظم نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر سزا دی۔ اس سے وکیلوں نے یہ تاثر لیا کہ اب وہ طاقتور گروپ ہیں اور عدلیہ اور انتظامیہ کو اپنے ایجنڈے پر چلا سکتے ہیں۔ لاہور میں وکلاء کا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ ،ملک کی مختلف عدالتوں کے احاطے میں صحافیوں پر تشدد پولیس افسران پر تشدد کے واقعات میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ ضلع اور تحصیل کی سطح پر وکلاء نے ہر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر عدالتوں کے بائیکاٹ اور ہڑتالوں کا جو طریقہ کار اختیار کیا اس نے صورتحال کو مزید خراب کردیا۔ مختلف شہروں میں مجسٹریٹ، ایڈیشنل سیشن جج اور سیشن جج وکلاء کے تشدد کا شکار ہوئے۔ پنجاب میں اعلیٰ عدالت نے اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لیا، یوں وہاں صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں موجودہ چیف جسٹس ظفر راجپوت نے گزشتہ ہفتے حیدرآباد بار ایسوسی ایشن جہاں سے انھوں نے وکیل کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا تھا، وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء گردی روکنا ہوگی۔ وکلاء کو کالے کوٹ اور کالی ٹائی کا احترام کرنا چاہیے۔ جو وکلا ء تشدد کے راستہ پر چل پڑے ہیں بار کو اس کو روکنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ادھر یہ حقیقت ہے کہ محض فوجداری اقدامات سے یہ بیماری ختم نہیں ہوگی۔ یونیورسٹیوں، بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی اور میڈیا کو وکلاء گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔  برطانیہ میں وکالت کرنے والے ایک پاکستانی وکیل نے بتایا تھا کہ وہاں کچھ بھارتی اور پاکستانی وکلاء جعلی مقدمات کے ماہر ہوگئے تھے۔ انھیں لندن بار نے نوٹس دیا اور ان وکلاء سے پوچھا گیا کہ کوئی حقیقی نوعیت کے مقدمات کیوں دائر نہیں کیے اور لندن بار نے اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر کئی وکلاء کی رکنیت معطل کردی تھی۔ پاکستان میں بھی بار کونسلز کو اسی طرح کا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔