کےٹو ائیرویز طیارہ حادثہ کے متاثرین نے تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ائیرلائن کی آپریشنل ہسٹری، انتظامی امور، طیارے کی مینٹی نینس کا جائزہ لینے اور ائیر کرافٹ کو مسلسل فضائی آپریشن میں مصروف رکھنے سے متعلق جامع تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ رواں برس 7جولائی کو بلوچستان کے ساحلی مقام اورماڑہ کےقریب گر کرتباہ ہونے والےکےٹو ائیرویز کے طیارہ حادثے کی تحقیقات پر لواحقین کےتحفظات سامنے آگئے، جنہوں نےطیارے کی تحقیقات پر مامور ادارے سےحادثے کی تحقیقات میں ایئرلائن کی آپریشنل ہسٹری، انتظامی امور اور طیارے کی مینٹی نینس کا جائزہ لینےکامطالبہ کردیا ہے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے سے قبل طیارےکو مسلسل آپریشن میں رکھنے سے متعلق فیصلوں کی بھی جامع تحقیقات کی جائیں، لواحقین کی جانب سے تحقیقات پر مامور ادارے کو باور کروایا گیا ہےکہ کے ٹو ائیرویز کی جانب سے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈرکی تلاش میں معاونت کے حوالے سے ائیرلائن انتظامیہ نےکوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی، حادثے کی وجوہات جاننےکے لیےطیارے کے دونوں ریکارڈرزکی تلاش اورریکوری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ تحقیقات سے متعلق پیش رفت کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دستاویزات اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس کےحصول سمیت انتظامی امور میں معاونت کی ہے، جاں بحق فضائی عملےکے اہل خانہ نے متعلقہ حکام سے انشورنس، معاوضے اور مالی واجبات پر فوری جواب دینے کامطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارے کےکاک پٹ کریوکےلواحقین 3ماہ سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجود انشورنس اور معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سےکوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے، ائیرلائن انتظامیہ کو متعدد فون کالز، پیغامات اور ای میلز پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ حادثے میں جاں بحق فضائی عملے کے قانونی ورثا کو کتنا معاوضہ ملےگا، انشورنس کلیمز شروع ہوئے یا نہیں، لواحقین کے سوالات برقرار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ معاوضے اور مالی واجبات کی ادائیگی کےلیےکوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔