ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے  یو کے اسٹوڈنٹ ویزہ فراڈ کے ملزم کو گرفتار کرکے 16 لاکھ روپے برآمد کرلیے . حکام کے مطابق ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف فروری 26 میں زیر دفعات 18 اور 22 ایمیگریشن آرڈیننس 1979 بمہ دفعات 420، 506 اور 109 پی پی سی کے تحت مقدمہ نمبر -AHTC-ICT-753/26  درج  کر رکھا تھا جس میں ملوث  مرکزی ملزم نجی کمپنی  آئی ای آئی ایس کے چیف ایگزیکٹیو  آفیسر  واصل آزاد، سی ای او/مالک IEIS کنسلٹنٹس اسلام آباد کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز 7 سے گرفتار کیا گیا. گرفتاری کے دوران شکایت کنندہ سے وصول کی گئی سولہ لاکھ روپے کی مکمل رقم بھی برآمد کر لی گئی۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزم واصل آزاد نے اپنے ساتھیوں ڈائریکٹر سلمان ،ڈائریکٹر ذوالقرنین  اور ویزہ کنسلٹنٹ  مسماة سعدیہ  کے ساتھ مل کر شکایت کنندہ محمد زاہد کی اہلیہ کے یو کے اسٹوڈنٹ ویزہ کیس کو دھوکہ دہی اور فریب کے ذریعے ہینڈل کیا ملزمان کی ہدایت پر مئی 2025 میں ٹیس سائیڈ یونیورسٹی کے آن لائن پیمنٹ لنک کے ذریعے 4,000 پاؤنڈ جمع کروائے گئے. تاہم ملزمان مقررہ ڈیڈ لائن تک ویزہ درخواست اور ضروری دستاویزات جمع کروانے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں متاثرہ خاتون برطانیہ نہ جا سکی اور 4,000 پاؤنڈ کی رقم بھی ضائع ہو گئی. شکایت کنندہ نے بار بار رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ملزمان نے انہیں دھمکیاں دیں اور سمن کے باوجود پیش نہ ہوئے۔ حکام کا کہناتھاکہ دیگر ملزمان سلمان، ذوالقرنین اور مسماة سعدیہ کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔ شہزاد ندیم بخاری کا کہناتھاکہ ویزہ فراڈ اور غیر قانونی ایمیگریشن میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرین کو انصاف دلانا ایجنسی کی اولین ترجیح ہے۔