امریکی ریاست منی سوٹا سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ انتھونی جیمز کازمیئرچک کو ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر حملے کے جرم میں 14 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کازمیئرچک نے 27 جنوری کو منیاپولس میں الہان عمر کے ایک ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران سامعین میں سے اٹھ کر ان کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے سرنج کے ذریعے مائع پھینکا تھا۔ حملہ آور نے مسلم رکن پارلیمان الہان عمر پر حملے کے وقت ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات میں حملے میں استعمال ہونے والی مائع کی شناخت پانی اور ایپل سائڈر سرکے کے مرکب کے طور پر ہوئی تھی۔ رکن پارلیمان الہان عمر کی سیکیورٹی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کازمیئرچک کو قابو کرکے پولیس نے کے حوالے کردیا تھا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم کازمیئرچک نے اس کارروائی کے لیے پہلے سے تیاری کی تھی اور تقریب کے تقریباً دو ہفتے قبل ٹکٹ حاصل کیا اور بعض افراد کو ایسے پیغامات بھی بھیجے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ تقریب میں کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پراسیکیوٹرز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ حملے سے الہان عمر اور تقریب میں موجود دیگر افراد میں جسمانی نقصان کے خدشے کا ماحول پیدا ہوا۔ استغاثہ نے پہلے عدالت سے 14 ماہ قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔ کازمیئرچک نے رواں برس مئی میں وفاقی عدالت میں امریکی اہلکار پر حملے کے الزام میں جرم قبول کرلیا تھا۔ سزا سناتے وقت جج جوآن این ایرکسن نے اسے 14 ماہ قید کے علاوہ 3 سال نگرانی میں رہنے کی سزا بھی سنائی تھی۔ عدالت میں کازمیئرچک نے الہان عمر سے معذرت بھی کی۔ اس سے قبل ایک سماعت میں جب جج نے اس سے حملے کی وجہ پوچھی تو اس نے واقعے کے بارے میں اپنی یادداشت کو ’’دھندلا‘‘ قرار دیا تھا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا تھا جب منیاپولس اور اس کے گرد و نواح میں وفاقی حکومت کی امیگریشن کارروائیوں کے خلاف شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔ الہان عمر اس موقع پر امیگریشن پالیسی اور امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیوں پر بات کر رہی تھیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق کازمیئرچک نے تفتیش کے دوران الہان عمر کی سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کا اظہار کیا تھا۔ تاہم قانونی کارروائی میں اس پر سیاسی اختلاف کی بنیاد پر حملہ کرنے کے حوالے سے بھی شواہد پیش کیے گئے۔