ایکسپریس اردو
امریکا کی سعودیہ کو طیاروں کی فراہمی؛ شاطر اسرائیل نئی چال چلنے کو تیار
ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو جدید ترین ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی فراہمی کی منظوری کے بعد اسرائیل نے خطے میں اپنی فوجی برتری قائم رکھنے کے لیے سے غیر معمولی عسکری پیکج اور جدید ہتھیاروں کا نظام بطور معاوضہ مانگنے کی تیاری شروع کر دی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس عسکری معاوضے کے ذریعے تل ابیب ان مہلک ترین ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جن کی فراہمی سے امریکی انتظامیہ ماضی میں صاف انکار کر چکی تھی۔
سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اربوں ڈالر کے تاریخی دفاعی معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کے عسکری توازن میں ہلچل مچا دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سعودی فضائیہ کو 24.3 ارب ڈالر کی مالیت کے 48 عدد جدید ترین F-35 لائٹننگ اسٹیلتھ طیارے بیچنے کے فیصلے پر اسرائیل نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنی فوجی برتری (Qualitative Military Edge) کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی دفاعی حکام نے وہائٹ ہاؤس کے سامنے بھاری مطالبات کی فہرست رکھنے کا حتمی منصوبہ بنا لیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل اب امریکا سے تلافی کے طور پر ایسے جدید ترین وارفیئر سسٹمز اور گائیڈڈ ہتھیاروں کے سودے منظور کرنے کا مطالبہ کرے گا جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا تھا۔
اس اسٹریٹجک اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سعودی عرب کے پاس ایف-35 طیارے آنے کے باوجود خطے میں عسکری بالادستی صرف اور صرف اسرائیل کے پاس ہی رہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل اب محض روایتی فضائی طاقت یا نئی نسل کے طیاروں تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ اس کی نظریں انتہائی حساس عسکری صلاحیتوں پر ٹکی ہیں۔
جن میں فضا اور خلا کے کنارے پر دشمن کے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے والے جدید انٹرسیپٹر طیارے اور دفاعی شیلڈ ، اسپیس ویپنز اور بنکر بسٹر بارود شامل ہیں جن سے بالترتیب خلا سے لیکر پہاڑوں اور چٹانوں کو چیر کر زمین کی گہرائی میں بنے خفیہ بنکروں اور زیرِ زمین فوجی و جوہری تنصیبات کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز امریکا نے سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے چوتھی اور پانچویں نسل کے ان لڑاکا طیاروں کی فروخت کو ہری جھنڈی دکھائی تھی جس کا توڑ کرنے کے لیے اب اسرائیل امریکہ پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.