ایک پوسٹ آپ کی جان بچا سکتی ہے۔ ایک اور پوسٹ اسی اسکرین پرآپ کو موت کے راستے پر بھی لے جا سکتی ہے۔ کسی آفت کے وقت سوشل میڈیا بیک وقت زندگی بچانے والاابلاغی نظام بھی بن سکتا ہے اور بحران کو کئی گنا بڑھانے والا ذریعہ بھی۔ 26 اگست 2026 کو نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن مٹی، پتھروں ،ملبے کے تیز بہاؤ(debris flow)اور سیلاب کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصاویر، ویڈیوز اور عینی شاہدین کی اطلاعات تیزی سے پھیلیں۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزراحقائق کی جانچ کرنے والے اداروں اے ایف پی ،بی بی سی اور دیگر نے سوشل میڈیا پر موجود ایسے مواد کی بھی نشاندہی کی جس کا ایک حصہ پرانا تھا۔ کچھ غلط سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اور کچھ مواد جعلی تھا۔ یعنی ایک حقیقی آفت کے ساتھ ایک دوسرا بحران بھی جنم لیتا دکھائی دیا۔ معلومات پر اعتماد کا بحران۔ یہ صورت حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آفت کے وقت سوشل میڈیا کب ایک جان بچانے ولا ابلاغی نظام بنتا ہے اور کب بحرآن کو بڑھانے والے multiplier crisis عنصر میں تبدیل ہوجاتا ہے؟۔یہ سوال انسانی جان، عوامی تحفظ، امدادی کارروائی، اداروں پر اعتماد اور بحران کے دوران فیصلہ سازی سے جڑا ہوا ہے۔ عام حالات میں معلومات اہم ہوتی ہیں لیکن آفت کے دوران معلومات خود ایک زندہ رہنے اور محفوظ رہنے کے لیے ضروری ذریعہ بن جاتی ہے۔ خطرہ کہاں ہے؟ کون سا علاقہ خالی کرنا ہے؟ کون سا راستہ محفوظ ہے؟ ریسکیو کہاں پہنچ چکا ہے؟ طبی امداد کہاں دستیاب ہے؟ شیلٹر کہاں قائم ہے؟ کسی لاپتا شخص کے بارے میں تازہ اطلاع کہاں سے مل سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب بعض اوقات گھنٹوں نہیں بلکہ چند منٹوں میں درکار ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس ضرورت کو پورا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک درست انتباہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی متاثرہ شخص کی مدد کی درخواست دور بیٹھے لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کسی محفوظ راستے یا بند سڑک کی اطلاع فوری طور پر شیئر کی جا سکتی ہے۔ کسی لاپتا شخص کی تصویر خاندان، رضاکاروں اور امدادی اداروں تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی یہی رفتار، رسائی اور فوری رابطے کی صلاحیت اس کا دوسرا اور خطرناک رخ بھی سامنے لاتی ہے۔ جس رفتار سے ایک درست انتباہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔تقریباً اسی رفتار سے ایک غلط خبر، جعلی انتباہ ، پرانی ویڈیو یا گمراہ کن اطلاع بھی پھیل سکتی ہے۔ آفت کے دوران جب لوگ پہلے ہی خوف، بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح کی معلومات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ ایک غلط اطلاع لوگوں کو محفوظ راستے کے بجائے خطرناک راستے پر لے جا سکتی ہے۔ کسی ایسے علاقے سے انخلا پر مجبور کرسکتی ہے جہاں فوری خطرہ موجود نہ ہو۔ یا اس کے برعکس حقیقی خطرے کو معمولی سمجھنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ یوں سوشل میڈیا جو ایک طرف لوگوں کو بروقت معلومات فراہم کرکے جان بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ وہیں غلط اور غیر مصدقہ معلومات کے ذریعے خود بحران کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔ اس دوہرے کردار کو صرف کسی ایک واقعے یا کسی ایک ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ قدرتی آفات اور غلط معلومات دونوں اب عالمی سطح پر نمایاں خطرات بن چکے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسکس رپورٹ 2025،جو گلوبل رسکس پرسیپشن سروے 25-2024 میں 900 سے زائد ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری و سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی آرا پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق 2025 کے موجودہ عالمی خطرات میں شدید موسمی واقعات(weather events extreme) دوسرے اور غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات چوتھے نمبر پر ہیں۔ لیکن اگلے دو برس یعنی 2027 کے منظرنامے میں "غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات"پہلے اور"شدید موسمی واقعات"دوسرے نمبر پر ہوں گے۔ جبکہ 2035 کے دس سالہ منظرنامے میں"شدید موسمی واقعات"پہلے اور"غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات"پانچویں نمبر پر ہوں گے۔ یہ درجہ بندیاں اس لیے اہم ہیں کہ ان سے دونوں خطرات کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ڈبلیو ای ایف خود 2025 کی رپورٹ میں نشاندہی کرتا ہے کہ"غلط اور گمراہ کن معلومات"دیگر بڑے خطرات جن میں"شدید موسمی واقعات"بھی شامل ہیںکے اثرات کو بڑھا سکتی ہیں۔ چنانچہ قدرتی آفت اور معلوماتی بحران کو مکمل طور پر الگ الگ مسائل سمجھنا اب کافی نہیں رہا۔ اگر ایک ہی ہنگامی صورت حال میں قدرتی خطرہ اور معلوماتی انتشار بیک وقت فعال ہوجائیں تو ایک بحران دوسرے کو بڑھا سکتا ہے اور یوںبحران کے اندر بحرانcrisis withen a crisisپیدا ہوسکتا ہے۔ اس باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جھوٹی یا گمراہ کن معلومات ایک ہی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ کبھی صارف انجانے میں غلط معلومات کو سچ سمجھ کر شیئر کرتا ہے۔ کبھی کسی خاص مقصد کے لیے جان بوجھ کر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی حقیقی معلومات کو اس کے اصل سیاق و سباق سے نکال کر ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے غلط تاثر پیدا ہو۔ اب مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تصاویر، ویڈیوز، آوازوں اور تحریروں کی صورت میں ایسا مواد تیار کیا جاسکتا ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہو۔ جبکہ اس کی حقیقت جانچنا آسان نہ ہو۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسکس رپورٹ 2025 میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور انسان کے تیار کردہ غلط یا گمراہ کن مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق GenAI نے ایسے مواد کی تیاری اور تقسیم کی رکاوٹیں کم کردی ہیں۔ جبکہ یہ مواد ویڈیو، تصاویر، آواز اور متن سمیت مختلف شکلوں میں سامنے آسکتا ہے۔ غلط اور گمراہ کن معلومات کی مختلف صورتوں کو سمجھنے کے لیے ان کے درمیان بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی بانی و چیئرپرسن ، شعبہ ڈیجیٹل میڈیا ، اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز ، جامعہ پنجاب اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ " مس انفارمیشن ‘‘Misinformation’’ (غلط معلومات )ایسی معلومات جو حقیقت کے خلاف ہوں لیکن اکثر غیر ارادی طور پر پھیلائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص پرانی سیلابی ویڈیو کو یہ جانے بغیر کہ وہ کب اور کہاں بنائی گئی تھی موجودہ سیلاب کی ویڈیو سمجھ کر شیئر کر سکتا ہے۔ ڈس انفارمیشن‘‘ Disinformation ’’(گمراہ کن معلومات) وہ معلومات جو جان بوجھ کر جھوٹ یا دھوکہ دینے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔لوگوں کو دھوکہ دیا جاسکے، کسی خاص تاثر کو فروغ دیا جاسکے، یا کسی فرد، تنظیم یا ملک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ مال انفارمیشن‘‘ Malinformation’’ (نقصان دہ معلومات) وہ درست معلومات ہوتی ہیں جنہیں جان بوجھ کر اس طرح استعمال کیا جائے کہ کسی فرد، ادارے یا گروہ کو نقصان پہنچے یا بدنام کیا جائے۔ یہ معلومات اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر، مسخ کر کے یا اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ ایک گمراہ کن یا نقصان دہ تاثر پیدا ہو"۔ یہ مسئلہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے جب میدان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی آتی ہے۔ جدید اے آئی کی مدد سے کسی شخص کی آواز یا چہرہ اس طرح بدلا جا سکتا ہے کہ لگے جیسے کوئی سرکاری اہلکار، امدادی ادارہ یا مشہور شخصیت نے واقعی کوئی بیان دیا ہو۔ مثال کے طور پرکسی ڈیزاسٹر کے دوران کسی سرکاری اہلکار یا امدادی ادارے کی جعلی ویڈیو یا آڈیو عوام میں خوف، الجھن یا غلط فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے۔اے آئی سے تیار کردہ مواد صرف ڈیپ فیک تک محدود نہیں۔ اس کے ذریعے جعلی تصاویر، ویڈیوز، آڈیوز، تحریری بیانات اور دیگر مواد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایسا مواد حقیقی واقعات کے طور پر پیش کیا جائے اور لوگ بغیر تحقیق یا حقائق کی جانچ کیے اسے آگے پھیلانا شروع کر دیں۔ اسی اطلاعاتی ماحول environment information میں پروپگینڈا کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ کسی آفت کے دوران حکومت، ادارے، ملک یا گروہ کے حق یا مخالفت میں ایک طرفہ اور جذباتی بیانیہ مسلسل پھیل سکتا ہے جو عوامی تاثر کو متاثر کرے۔ تاہم ہر سخت تنقید یا مخالف رائے پروپیگنڈا نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا معلومات کو جان بوجھ کر یکطرفہ، گمراہ کن یا جذباتی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی رائے کو کسی خاص مقصد کے لیے متاثر کیا جاسکے۔ اسی طرح آفات کے دوران دھوکا دہی (scams)بھی ایک واضح اور سنگین خطرہ ہوتے ہیں۔ جعلی امدادی مہمات، جعلی عطیہ کے لنکس، جعلی تنظیمیں اور متاثرین کے نام پر مالی امداد کی اپیلیں سب لوگوں کی ہمدردی، خوف اور فوری مدد کی خواہش کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ یہاں سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی ایک اور بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے۔ قدرتی آفت کے بارے میں مواد تیار کرنے والے ہر شخص کا مقصد لازماً درست اور مستند معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں توجہ کے حصول کی معیشت (attention economy)میں ویوز، لائک، کمینٹس، شئیر اور فالورز خود ایک اہم کرنسی بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی جو ذرائع ابلاغ، سماجی رابطوں کے ذرائع، غلط معلومات اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں تدریس و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔اْن کا کہنا ہے کہ " ایسا مواد جو لوگوں کو چونکائے، خوف زدہ کرے، جذبات ابھارے یا فوری ردعمل پر مجبور کرے زیادہ engagement پیدا کرسکتا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات درست معلومات سے زیادہ سنسنی خیز معلومات کو ترجیح ملنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک dramatic video، shocking caption یا انتہائی پراعتماد دعویٰ اس لیے زیادہ پھیل سکتا ہے کہ وہ انسان کے جذبات کو متحرک کرتا ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ درست ہے۔ اس ماحول میں لائکس اورشئیرز خود اس دعوے کے لیے مصنوعی اعتماد پیدا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ ویوز یا شئیرزکسی معلومات کے درست ہونے کا ثبوت نہیں ہوتے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہوسکتا ہے جب توجہ حاصل کرنے کی خواہش، معلومات کی تصدیق کے بغیر اشاعت کے ساتھ سوشل میڈیا کے نظام کی طرف سے کسی مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا ( amplification algorithmic)بھی آپس میں مل جائے"۔ اس مسئلہ سے متعلق ایک اور پہلو آفات کے دوران سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ حتٰی کہ غیر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماہرین کی طرح ڈیزاسٹرزکے مختلف پہلوؤں پر رائے اور پیش گوئیاں کرنا بھی ہے۔ ایسی غیر ماہرانہ مگر پْراعتماد رائے عوام کے لیے کس طرح نقصان دہ ہو سکتی ہے؟یہ سوال یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے اسکول آف گورننس اینڈ سوسائٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد علی گل کے سامنے رکھا گیا تو اْن کا کہنا ہے کہ " آفات ایک ایسا موضوع ہے کہ ہر شخص کو موسمیات، پانی کے بہاؤ، زلزلوں کی سائنس، آفات کے خطرات درکار ہنگامی امداد کے شعبوں میں باقاعدہ مہارت حاصل نہیں ہوتی اس لیے درست رائے دینے کے لیے متعلقہ شعبے کی مہارت لازمی ہے۔صرف چند ویڈیوز، تصاویر یا سوشل مڈیا پوسٹس کی بنیاد پر آفت کی شدت، ممکنہ اثرات یا آئندہ صورتِ حال کے بارے میں، پْراعتماد رائے اور پش گوئی گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ یہ ’’نیم حکیم‘‘ کے رویے کی مانند ہے جو غیر ضروری خوف، غلط سمت میں نقل مکانی یا حقیقی خطرے کو نظر انداز کرنے جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آفات بڑے پیمانے پر تباہی لاتی ہیں، جو اکثر اپنے متاثرین کو مالی اور جسمانی طور پر مکمل بے بس اور متاثرکر دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ ان تباہ کاریوں کے مناظر (تصاویر اور ویڈیوز) کو استعمال کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز یا کلک بیٹ (bait click ) (گمراہ کن) سرخیاں لگاتے ہیںاور اکثر مزید سنسنی خیز مناظر یا تھمب نیلز (thumbnails)تخلیق کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا سہارا لیتے ہیں۔چونکہ خوف ہماری توجہ کو فوراً اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔اس لیے ایسی پوسٹیں خوف اور گھبراہٹ کو بیچ کر وائرل ہوتی ہیں۔ نتیجہ عوامی سطح پر مزید انتشار اور غلط فہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اسی لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ حفاظتی اقداماتخاص طور پر پیشگی تنبیہ (warnings early) اور متاثرہ علاقوں سے انخلاء (evacuations) کے لیے صرف سرکاری معلومات کے ذرائع جیسے کہ NDMA، PDMAs اور مقامی شہری انتظامیہ کے سوشل میڈیا پیجز، ایپس اور پریس ریلیزز پر ہی بھروسہ کیا جائے"۔ انٹرنیٹ کی طاقت سے مسلح سوشل میڈیا کی تیز ترین نفوذ پذیری نے جھوٹے مواد کو جس رفتار سے پھیلنے کا موقع دیا ہے۔اس کا ایک مضبوط تجرباتی ثبوت MIT کی معروف تحقیق میں بھی ملتا ہے۔Massachusetts Institute of Technology کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ '' فیک نیوز سچی خبر کی نسبت زیادہ تیز ی سے پھیلتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق سچی خبروں کو 1500 لوگوں تک پہنچنے میں چھ گنا زیادہ وقت لگا بانسبت جھوٹی خبروں کے۔ جبکہ جھوٹی خبروں کے دوبارہ ٹویٹ کئے جانے کا امکان سچی خبروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھا''۔ گلوبل مارکٹم اینڈ اوپنیئن ریسرچ اسپیشلسٹ (Ipsos) کی جانب سے تھنکو ٹنک سنٹر فار انٹرنشنل گورننس انوویشن (CIGI) کے لئے2019 میں کے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جعلی خبریں ایک عالمی وباء ہیں اور اِن کا اثر وسیع ہے۔''دنیا کے 25 ممالک میں (جن میں پاکستان بھی شامل تھا)ہ 25,000 سے زیادہ انٹرویوز پر مشتمل سروے سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 86 فصد شہریوں کا خیال ہے کہ وہ جعلی خبروں کا شکار ہوئے۔ یعنی ہر پانچ میںا سے چار افراد۔ پاکستان کے بارے میںسروے کہ نتائج یہ بتاتے ہیں کہ 56 فیصد ہم وطنوں نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سامنا کرنے کی تصدیق کی۔فیس بک پر فیک نیوز کا سامنا کرنے والے پاکستانی کا تناسب 61 فیصد تھا۔ جبکہ27 فیصد زیر جائزہ پاکستانیوں نے مین اسٹریم میڈیا سورسز پر فیک نیوز کے مشاہدے کے بارے میں بتایا''۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تناظر اس لیے اہم ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ReportalDataکی ڈیجیٹل 2021:پاکستان ،نامی رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں 61.34 ملین انٹرنیٹ صارف تھے اور 46 ملین سوشل میڈیا صارف تھے۔ یعنی 27.5 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی جبکہ 20.6 فیصد سوشل میڈیا۔ چند برس بعد ملک کا یہ ڈیجیٹل انوائرمنٹ خاصا وسیع ہوچکا ہے۔اسی ادارے کی ڈیجیٹل 2026:پاکستان، نامی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 تک پاکستان میں 117 ملین انٹرنیٹ صارف تھے یعنی ملک کی 45.6 فیصد آبادی۔ اسی رپورٹ کے مطابق ملک میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 79.9 ملین تھی جو کل آبادی کے 31.2 فیصد کے برابر تھی۔قدرتی آفات کے تناظر میں یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اب صرف تفریح یا دوستوں سے رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ خبروں، عوامی مباحث، موسمی صورتحال اور ہنگامی اطلاعات کے لیے بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس پلیٹ فارم کے ذریعے ایک درست پیشگی انتباہ) warning early ) لاکھوں افراد تک فوراً پہنچ سکتا ہے، اسی پلیٹ فارم کے ذریعے ایک غلط خبر، جعلی ویڈیو یا گمراہ کن اطلاع بھی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ یہ اطلاعاتی ماحول (environment information ) اس بات کو اور نمایاں کرتا ہے کہ بحران کے ابلاغ (crisis communication) میں صرف پہنچ (reach) کافی نہیں، بلکہ اعتماد (credibility) بھی لازمی ہے۔ پاکستان کی قدرتی آفات کے سامنے کمزوری اس ضرورت کو مزید واضح کرتی ہے۔ ورلڈ بینک کے کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل کے مطابق پاکستان 2020 کے انفارم رسک انڈیکس میں 191 ممالک میں مجموعی ڈیزاسٹر رسک کے لحاظ سے 18ویں نمبر پر تھا۔ ملک کو خاص طور پر سیلاب (flooding)، خشک سالی (drought)، ٹراپیکل سائیکلونز اور زلزلوں (earthquakes) جیسے خطرات کا سامنابنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی بانی و چیئرپرسن ، شعبہ ڈیجیٹل میڈیا ، اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز ، جامعہ پنجاب اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ " مس انفارمیشن ‘‘Misinformation’’ (غلط معلومات )ایسی معلومات جو حقیقت کے خلاف ہوں لیکن اکثر غیر ارادی طور پر پھیلائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص پرانی سیلابی ویڈیو کو یہ جانے بغیر کہ وہ کب اور کہاں بنائی گئی تھی موجودہ سیلاب کی ویڈیو سمجھ کر شیئر کر سکتا ہے۔ ڈس انفارمیشن‘‘ Disinformation ’’(گمراہ کن معلومات) وہ معلومات جو جان بوجھ کر جھوٹ یا دھوکہ دینے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔لوگوں کو دھوکہ دیا جاسکے، کسی خاص تاثر کو فروغ دیا جاسکے، یا کسی فرد، تنظیم یا ملک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ مال انفارمیشن‘‘ Malinformation’’ (نقصان دہ معلومات) وہ درست معلومات ہوتی ہیں جنہیں جان بوجھ کر اس طرح استعمال کیا جائے کہ کسی فرد، ادارے یا گروہ کو نقصان پہنچے یا بدنام کیا جائے۔ یہ معلومات اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر، مسخ کر کے یا اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ ایک گمراہ کن یا نقصان دہ تاثر پیدا ہو"۔ یہ مسئلہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے جب میدان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی آتی ہے۔ جدید اے آئی کی مدد سے کسی شخص کی آواز یا چہرہ اس طرح بدلا جا سکتا ہے کہ لگے جیسے کوئی سرکاری اہلکار، امدادی ادارہ یا مشہور شخصیت نے واقعی کوئی بیان دیا ہو۔ مثال کے طور پرکسی ڈیزاسٹر کے دوران کسی سرکاری اہلکار یا امدادی ادارے کی جعلی ویڈیو یا آڈیو عوام میں خوف، الجھن یا غلط فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے۔اے آئی سے تیار کردہ مواد صرف ڈیپ فیک تک محدود نہیں۔ اس کے ذریعے جعلی تصاویر، ویڈیوز، آڈیوز، تحریری بیانات اور دیگر مواد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایسا مواد حقیقی واقعات کے طور پر پیش کیا جائے اور لوگ بغیر تحقیق یا حقائق کی جانچ کیے اسے آگے پھیلانا شروع کر دیں۔ اسی اطلاعاتی ماحول environment information میں پروپگینڈا کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ کسی آفت کے دوران حکومت، ادارے، ملک یا گروہ کے حق یا مخالفت میں ایک طرفہ اور جذباتی بیانیہ مسلسل پھیل سکتا ہے جو عوامی تاثر کو متاثر کرے۔ تاہم ہر سخت تنقید یا مخالف رائے پروپیگنڈا نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا معلومات کو جان بوجھ کر یکطرفہ، گمراہ کن یا جذباتی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی رائے کو کسی خاص مقصد کے لیے متاثر کیا جاسکے۔ اسی طرح آفات کے دوران دھوکا دہی (scams)بھی ایک واضح اور سنگین خطرہ ہوتے ہیں۔ جعلی امدادی مہمات، جعلی عطیہ کے لنکس، جعلی تنظیمیں اور متاثرین کے نام پر مالی امداد کی اپیلیں سب لوگوں کی ہمدردی، خوف اور فوری مدد کی خواہش کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ یہاں سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی ایک اور بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے۔ قدرتی آفت کے بارے میں مواد تیار کرنے والے ہر شخص کا مقصد لازماً درست اور مستند معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں توجہ کے حصول کی معیشت (attention economy)میں ویوز، لائک، کمینٹس، شئیر اور فالورز خود ایک اہم کرنسی بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی جو ذرائع ابلاغ، سماجی رابطوں کے ذرائع، غلط معلومات اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں تدریس و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔اْن کا کہنا ہے کہ " ایسا مواد جو لوگوں کو چونکائے، خوف زدہ کرے، جذبات ابھارے یا فوری ردعمل پر مجبور کرے زیادہ engagement پیدا کرسکتا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات درست معلومات سے زیادہ سنسنی خیز معلومات کو ترجیح ملنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک dramatic video، shocking caption یا انتہائی پراعتماد دعویٰ اس لیے زیادہ پھیل سکتا ہے کہ وہ انسان کے جذبات کو متحرک کرتا ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ درست ہے۔ اس ماحول میں لائکس اورشئیرز خود اس دعوے کے لیے مصنوعی اعتماد پیدا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ ویوز یا شئیرزکسی معلومات کے درست ہونے کا ثبوت نہیں ہوتے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہوسکتا ہے جب توجہ حاصل کرنے کی خواہش، معلومات کی تصدیق کے بغیر اشاعت کے ساتھ سوشل میڈیا کے نظام کی طرف سے کسی مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا ( amplification algorithmic)بھی آپس میں مل جائے"۔ اس مسئلہ سے متعلق ایک اور پہلو آفات کے دوران سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ حتٰی کہ غیر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماہرین کی طرح ڈیزاسٹرزکے مختلف پہلوؤں پر رائے اور پیش گوئیاں کرنا بھی ہے۔ ایسی غیر ماہرانہ مگر پْراعتماد رائے عوام کے لیے کس طرح نقصان دہ ہو سکتی ہے؟یہ سوال یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے اسکول آف گورننس اینڈ سوسائٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد علی گل کے سامنے رکھا گیا تو اْن کا کہنا ہے کہ " آفات ایک ایسا موضوع ہے کہ ہر شخص کو موسمیات، پانی کے بہاؤ، زلزلوں کی سائنس، آفات کے خطرات درکار ہنگامی امداد کے شعبوں میں باقاعدہ مہارت حاصل نہیں ہوتی اس لیے درست رائے دینے کے لیے متعلقہ شعبے کی مہارت لازمی ہے۔صرف چند ویڈیوز، تصاویر یا سوشل مڈیا پوسٹس کی بنیاد پر آفت کی شدت، ممکنہ اثرات یا آئندہ صورتِ حال کے بارے میں، پْراعتماد رائے اور پش گوئی گمراہ کن ہو سکتی ہے۔یہ ’’نیم حکیم‘‘ کے رویے کی مانند ہے جو غیر ضروری خوف، غلط سمت میں نقل مکانی یا حقیقی خطرے کو نظر انداز کرنے جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آفات بڑے پیمانے پر تباہی لاتی ہیں، جو اکثر اپنے متاثرین کو مالی اور جسمانی طور پر مکمل بے بس اور متاثرکر دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ ان تباہ کاریوں کے مناظر (تصاویر اور ویڈیوز) کو استعمال کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز یا کلک بیٹ (bait click ) (گمراہ کن) سرخیاں لگاتے ہیںاور اکثر مزید سنسنی خیز مناظر یا تھمب نیلز (thumbnails)تخلیق کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا سہارا لیتے ہیں۔چونکہ خوف ہماری توجہ کو فوراً اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔اس لیے ایسی پوسٹیں خوف اور گھبراہٹ کو بیچ کر وائرل ہوتی ہیں۔ نتیجہ عوامی سطح پر مزید انتشار اور غلط فہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اسی لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ حفاظتی اقداماتخاص طور پر پیشگی تنبیہ (warnings early) اور متاثرہ علاقوں سے انخلاء (evacuations) کے لیے صرف سرکاری معلومات کے ذرائع جیسے کہ NDMA، PDMAs اور مقامی شہری انتظامیہ کے سوشل میڈیا پیجز، ایپس اور پریس ریلیزز پر ہی بھروسہ کیا جائے"۔ انٹرنیٹ کی طاقت سے مسلح سوشل میڈیا کی تیز ترین نفوذ پذیری نے جھوٹے مواد کو جس رفتار سے پھیلنے کا موقع دیا ہے۔اس کا ایک مضبوط تجرباتی ثبوت MIT کی معروف تحقیق میں بھی ملتا ہے۔Massachusetts Institute of Technology کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ '' فیک نیوز سچی خبر کی نسبت زیادہ تیز ی سے پھیلتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق سچی خبروں کو 1500 لوگوں تک پہنچنے میں چھ گنا زیادہ وقت لگا بانسبت جھوٹی خبروں کے۔ جبکہ جھوٹی خبروں کے دوبارہ ٹویٹ کئے جانے کا امکان سچی خبروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھا''۔ گلوبل مارکٹم اینڈ اوپنیئن ریسرچ اسپیشلسٹ (Ipsos) کی جانب سے تھنکو ٹنک سنٹر فار انٹرنشنل گورننس انوویشن (CIGI) کے لئے2019 میں کے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جعلی خبریں ایک عالمی وباء ہیں اور اِن کا اثر وسیع ہے۔''دنیا کے 25 ممالک میں (جن میں پاکستان بھی شامل تھا)ہ 25,000 سے زیادہ انٹرویوز پر مشتمل سروے سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 86 فصد شہریوں کا خیال ہے کہ وہ جعلی خبروں کا شکار ہوئے۔ یعنی ہر پانچ میںا سے چار افراد۔ پاکستان کے بارے میںسروے کہ نتائج یہ بتاتے ہیں کہ 56 فیصد ہم وطنوں نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سامنا کرنے کی تصدیق کی۔فیس بک پر فیک نیوز کا سامنا کرنے والے پاکستانی کا تناسب 61 فیصد تھا۔ جبکہ27 فیصد زیر جائزہ پاکستانیوں نے مین اسٹریم میڈیا سورسز پر فیک نیوز کے مشاہدے کے بارے میں بتایا''۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تناظر اس لیے اہم ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ReportalDataکی ڈیجیٹل 2021:پاکستان ،نامی رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں 6