ایکسپریس اردو
کراچی، آواری ٹاور کے قریب کار کی ٹکر سے نوجوان جاں بحق، لواحقین کے احتجاج پر مقدمہ درج
کراچی کے آواری ٹاور کے قریب کار کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار 19 سالہ نوجوان ذیشان جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے خلاف لواحقین نے آرٹلری میدان تھانے کے باہر احتجاج کیا بعد ازاں پولیس نے حادثے کا مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ نمبر 139/2026 متوفی ذیشان کے بھائی سلیمان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں مبینہ کم عمر ڈرائیور شمروز اور کار میں موجود خاتون سعدیہ کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں سے تصدیق ہوئی کہ حادثے کے وقت کار شمروز چلا رہا تھا جو حادثے کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد کار میں موجود خاتون ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی اور مبینہ طور پر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جس پر سعدیہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مبینہ ڈرائیور شمروز کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق ذیشان موبائل شاپ پر کام کرتا تھا اور حادثے کے وقت موبائل فون کی ڈیلیوری کے لیے بہادرآباد سے کلفٹن جا رہا تھا۔ ذیشان پٹیل پاڑہ، جہانگیر روڈ کا رہائشی اور 6 بہنوں اور 2 بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔
لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
Shown as published in the source's RSS feed. IndiaAIFounders doesn't link out to third-party sites — this is the complete detail available from the feed itself.