ملک کے طول و عرض میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹ کی پرانی بحث اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے جیساکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دنوں لاہور کی ایک یونیورسٹی میں پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے زیر اہتمام پاکستان میں اختیارات کی منتقلی اور بہتر طرز حکمرانی کے موضوع پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نئے انتظامی یونٹ بن کے رہیں گے۔ کوئی فرد یا سیاسی جماعت انھیں نہیں روک سکتی۔ وزیر داخلہ کا موقف ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے ،اسے ری سیٹ کرنے اور 79 سالہ انتظامی ڈھانچے کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ان کے بقول جب نئے اضلاع بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے۔ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹ کی بحث میں دو قسم کی آرا پائی جاتی ہیں، ایک حلقہ نئے صوبوں کے قیام کے حق میں دلائل دے رہا ہے جب کہ دوسرا حلقہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی جو صوبہ سندھ کی سب سے بڑی نمایندہ سیاسی جماعت ہے ،وہ سندھ میں مزید صوبے بنانے کے حق میں نہیں ہے۔ جب کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت جو پنجاب کو اپنا سیاسی گڑھ سمجھتی ہے وہ پنجاب کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کے لیے راضی نہیں ہے۔ اگرچہ (ن) لیگ کے بعض وفاقی وزرا جن میں احسن اقبال اور خواجہ آصف پیش پیش ہیں نئے صوبوں کے قیام کے حق میں بیانات دے رہے ہیں لیکن (ن) لیگ کی قیادت نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں تادم تحریر کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیا۔ حیران کن طور پر نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کابینہ میں اب تک کوئی بحث نہیں ہوئی۔ نہ ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے صوبوں کے قیام پر کوئی بحث کی گئی اور نہ ہی پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے کی اسمبلی میں کوئی بحث ہوئی نہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حق یا مخالفت میں کوئی قرارداد منظور کی گئی۔ جب سندھ اسمبلی ملک کی پہلی اسمبلی ہے جہاں اس حوالے سے پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کی پیش کردہ تحریک التوا پر اراکین اسمبلی، حکومتی اور اپوزیشن ہر دو جانب سے بھرپور بحث کی گئی اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کو مسترد کرکے واضح قرارداد منظور کر لی۔ پی پی اراکین اسمبلی کی تقاریر اس بات کی علامت ہیں کہ سندھ کی نمایاں اور سب سے بڑی سیاسی قوت پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حق میں نہیں ہے۔ جب کہ سندھ کی دوسری بڑی سیاسی قوت ایم کیو ایم رکن سندھ اسمبلی اور قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کا بڑا واضح موقف ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ ایوان بار بار سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکا ہے تو پھر قرارداد بار بار کیوں لائی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ آئینی طور پر قومی اسمبلی کو صوبوں کی حدود پر قانون سازی کے لیے دو تہائی اکثریت کا اختیار دیا گیا ہے اور صدر مملکت کی منظوری کو بھی دو تہائی اکثریت سے مشروط کیا گیا، اسی لیے ہم بار بار قومی اسمبلی کو آگاہ کررہے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم پر بات نہ کرے کیوں کہ وہاں حکومت کو پی پی پی کے بغیر دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔  مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ نہایت حساس ہے اور ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ عمل اور بھی نازک نظر آتا ہے۔ جب کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جیسا کہ وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے صوبے بن کے رہیں گے۔ آپ ماضی کی تاریخ دیکھیے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے بہت کچھ کہا سنا گیا لیکن وہ آج تک نہ بن سکا۔ پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ کے رانا ثنا اللہ نے بہاولپور صوبے کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کی قرارداد پیش کی جو منظور ہو گئی لیکن آج تک مذکورہ صوبہ نہ بن سکے۔ وفاق نے دریائے سندھ سے چھ نہریں نکالنے کا منصوبہ بنایا لیکن پیپلز پارٹی اور قوم پرست تنظیموں کے سخت احتجاج کے بعد یوٹرن لے لیا۔ نئے صوبوں پر پی پی نے واضح لائن لے لی ہے۔ مناسب ہوگا کہ حساس معاملات پر آئین کے مطابق قومی اتفاق رائے سے فیصلے کیے جائیں۔